صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 336
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۳۶ ١١ - كتاب الجمعة كُنَّا نَتَمَنَّى يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِطَعَامِهَا ذَلِكَ : اس عورت کے کھانے پر ہمیں جمعہ کی آرزو رہتی۔ایک موقع پر جمعہ کے اثناء میں بھاگنے والوں سے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ مہاجرین یا انصار تھے صریح غلطی ہے۔ابتدائی مدنی زمانہ میں جو لوگ مسلمان ہوئے تھے۔ان میں کمزور بھی تھے اور منافق بھی اور کمزور نفوس میں زمانہ جاہلیت کا اثر باقی تھا۔ایسے کمزور یا منافق طبع لوگوں سے ایسی حرکات کا سرزد ہونا ایک طبعی امر تھا۔بالآخر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انہی کمزور لوگوں کی تربیت میں بے نظیر کامیابی حاصل ہوئی۔باب ٤١ : الْقَائِلَةُ بَعْدَ الْجُمُعَة جمعہ کے بعد قیلولہ کرنا ٩٤٠: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ :۹۴۰ محمد بن عقبہ شیبانی نے ہم سے بیان کیا، کہا: الشَّيْانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ابوالحق فزاری نے ہمیں بتایا کہ حمید (طویل) سے الْفَزَارِيُّ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس يَقُوْلُ كُنَّا نُبَكِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ نَقِيلُ سے سنا۔وہ کہتے تھے: جمعہ کے دن ہم سویرے اطرافه: ٩٠٥۔نماز پڑھ لیتے تھے۔پھر قیلولہ کرتے۔٩٤١: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ :۹۴۱ سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہا: قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابو غسان نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ ابوحازم نے مجھے بتایا۔حضرت سہل ( بن سعد ) سے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ مروی ہے کہ وہ کہتے تھے: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تَكُونُ الْقَائِلَةُ۔ساتھ جمعہ پڑھتے اور پھر قیلولہ ہوتا۔اطرافه ۹۳۸، ۹۳۹، ٢٣٤۹ ، ٥٤٠٣، ٦٢٤٨ ٦٢٧٩۔تشریح: الْقَائِلَةُ بَعْدَ الْجُمُعَةِ : اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ نماز جمعہ صحابہ اول وقت میں پڑھتے اور اس کے بعد کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے۔باب ۴۰ ۴۱ کی روایتوں سے واضح ہوتا ہے کہ وہ لوگ جن کے دلوں میں ایمان رچا ہوا تھا جمعہ سے متعلق اس قدر اہتمام دکھلاتے تھے کہ نہ کھانے کی پرواہ کرتے اور نہ نیند کی اور میلوں چل کر جمعہ کی خاطر آتے تھے۔