صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 332
صحيح البخاری جلد ۲ وَتَرَكُوْكَ قَائِمًا (الجمعة: ١٢)۔ اطرافه: ٢٠٥٨، ٢٠٦٤، ٤٨٩٩۔ ۳۳۲ ۱۱ - كتاب الجمعة یعنی جب وہ تجارت یا کھیل دیکھیں تو اس پر ٹوٹ پڑیں اور تجھے کھڑا چھوڑ دیں۔ تشريح : إِذَا نَفَرَ النَّاسِ فَصَلَاةُ الإِمَامِ وَمَنْ بَقِيَ جَائِزَةٌ : فقہاء کےدرمیان یہ مسلہ بھی اختلافی ہے کہ کتنے نمازی ہوں تو جمعہ پڑھنا واجب ہو جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ مقتدی اور امام ہو۔ بعض کے نزدیک کم از کم تین ہوں ۔ امام ابو حنیفہ کے مذہب میں امام کے سواتین نمازیوں کا ہونا ضروری ہے۔ امام شافعی اور امام احمد بن بن حنبل کے نزدیک چالیس تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی و ثانی صفحه ۵۴۳۔ نیز دیکھئے: بداية المجتهد۔ كتاب الصلاة۔ الباب الثالث من الجملة الثالثة - الفصل الثاني في شروط الجمعة جزء اول ۔ امام بخاری کے نزدیک تعداد کی کوئی تعیین نہیں۔ جیسا کہ عنوان باب سے ظاہر ہے کہ امام کے ساتھ اگر ایک بھی رہ جائے تو ان کا جمعہ جائز ہوگا۔ جواز یا عدم جواز میں کسی تعداد کی شرط نہیں۔ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : فتح الباری میں چار پانچ واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن میں لوگ نماز چھوڑ کر گئے ہیں اور ہر واقعہ میں آیت محولہ بالا کے شان نزول کا انہی الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے۔ (دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۴۵ ، ۵۴۶) نَزَلَتُ سے یہ بھی ثابت کیا جا چکا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے محاورہ کلام میں لفظ نزلت سے تطبیق مراد تھی نہ یہ کہ سورۃ جمعہ کی آیات کا ہر دفعہ نزول ۔ یہ سورۃ در حقیقت شروع سے لے کر آخر خر تک ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود سے پوری ہوئی اور یہ سورۃ آئندہ کے واقعات سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وَ اخَرِینَ مِنْهُمْ کے تعلق میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا : لو كَانَ الْأَيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَا لَهُ رَجُلٌ أَوْ رِجَالٌ مِّنْ هَؤُلاءِ (بخاری، کتاب تفسیر القرآن، باب قوله و آخرين منهم لما يلحقوا بهم روايت نمبر ۴۸۹۸) اگر ایمان ثریا سے معلق ہوگا ( ثریا ستارہ پر پہنچ جائے گا ) تو ایک یا ایک سے زائد مرد اسے پالیں گے۔ اس میں زمانہ کی طرف اشارہ ہے جب مسلمان محض رسمی اور نام کے رہ جائیں گے اور عملاً اپنے نبی متبوع کو چھوڑ چکے ہوں گے۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ امام (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کا روحانی وجود تو ہمیشہ قائم رہے گا اس پر مرور زمانہ سے کوئی ضعف نہ آئے گا ہاں مسلمانوں میں کمزوری آجائے گی۔ خلاصہ یہ کہ کسی ایک واقعہ سے اس کے نزول کا مخصوص کرنا اس سورۃ کے منشاء کے خلاف ہے اور ایسا ہی روایات کے مفہوم کے خلاف بھی۔ وَإِذَا رَأَوْ تِجَارَةً أَوْ لَهُوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا : سورۂ جمعہ ہجرت سے دوسرے سال نازل ہوئی۔ اس وقت مہاجرین اور انصار کی تعداد کافی تھی اور ان مخلص نفوس قدسیہ کی نسبت جنہوں نے اپنے عزیزوں اور جائیدادوں کو اللہ تعالیٰ کے لئے چھوڑا ، یہ باور نہیں کیا جا سکتا کہ ایک قافلہ کی آمد سن کر خطبہ جمعہ یا دوران نماز ہی بھاگ پڑے ہوں اور ان میں سے کل بارہ رہ گئے ہوں۔ وہ صحابہ جن کے متعلق آسمانی گواہی یہ ہے: رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ