صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 331 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 331

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۳۱ ۱۱ - كتاب الجمعة مستحق ہوتی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۴۳٬۵۴۲) یہ مذہب صحیح ہے اور اسی کو امام غزائی اور دیگر اہل اللہ نے قبول کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۳۶) قرآن مجید میں اس مبارک گھڑی کو انابت الی اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انابت کے معنی جھکاؤ۔ اس میں مضطرب انسان استجابت دعا سے نوازا جاتا ہے۔ (الزمر:۹ اور الروم : ۳۴) اور انابت کی ایک حالت دائمی ہے جس سے انبیاء و اولیاء اللہ علی قدر مراتب مخصوص ہیں۔ ان کا قلب منیب لوگوں کے دکھوں سے معطر ہو کر آستانہ الہی پر جھکتا اور دعا کرتا ہے اور یہ دعا آنافا نا سنی جاتی ہے۔ جیسا کہ مذکورہ بالا واقعہ میں ہوا ہے۔ يَسْأَلُ اللهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ : مذکورہ بالا حدیث میں ہے کہ اس مبارک گھڑی میں جو کچھ بھی دعا کرنے والا مانگے گا وہ اسے دیا جائے گا۔ اس سے مراد یہی ہے کہ ان قوانین الہیہ کے تحت جو اللہ تعالیٰ نے قبولیت دعا کے لئے مقرر فرمائے ہیں۔ دعا کرنے والے کی دعا قبول ہوگی ۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب برکات الدعا۔ روحانی خزائن جلد ۶ ) ( قبولیت دعا کے طریق انوار العلوم جلد ۳ صفحه ۴۸۳ مصنفہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی) ان دونوں کتابوں میں تفصیلاً مشار الیہ قوانین الہیہ کا ذکر ہے۔ بَاب ۳۸ : إِذَا نَفَرَ النَّاسُ عَنِ الْإِمَامِ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ فَصَلَاةُ الْإِمَامِ وَمَنْ بَقِيَ جَائِزَةٌ اگر جمعہ کی نماز میں لوگ امام کو چھوڑ کر ادھر ادھر چل دیں تو امام کی اور ان لوگوں کی نماز جو باقی رہ گئے ہیں جائز ہوگی ٩٣٦: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ۹۳۶: معاویہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ حُصَيْنِ عَنْ زائدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین سے حصین سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرُ نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے: بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ حضرت جابر بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہم النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتْ في صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ عِيْرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا فَالْتَفَتُوْا إِلَيْهَا حَتَّى اتنے میں ایک قافلہ غلہ اٹھائے ہوئے سامنے آ گیا تو مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اثْنَا لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ یہاں تک کہ نبی صلی عَشَرَ رَجُلاً فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوا بارہ آدمیوں کے اور کوئی نہ رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا الفَضُّوا إِلَيْهَا رہا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً