صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 311
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۱۱ ۱۱ - كتاب الجمعة عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يونس بن یزید ) نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی يَزِيدَ يَقُوْلُ إِنَّ الْأَذَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے سائب بن یزید کو کہتے كَانَ أَوَّلُهُ حِيْنَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ يَوْمَ سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي عَهْدِ رَسُولِ حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کے دن الله ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ پہلی اذان تب ہوا کرتی تھی جب امام جمعہ کے دن عَنْهُمَا فَلَمَّا كَانَ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ منبر پر بیٹھتا ۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ا وَكَثُرُوا أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خلافت کا زمانہ ہوا اور لا ا اور لوگ زیادہ ہو گئے تو حضرت بِالْأَذَانِ الثَّالِثِ فَأُذِنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ عثمان نے جمعہ کے دن تیسری اذان کا حکم دیا اور وہ زوراء مقام پر دی گئی۔ پھر یہی دستور رہا۔ فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ۔ اطرافه ۹۱۲، ۹۱۳، ۹۱۵۔ تشريح : التَّاذِينُ عِندَ الْخُطْبَة : جب امام خطہ کا ارادہ کرے تواس وقت اذان دی جائے۔ سائب بن یزید کی یہ روایت ابھی گزر چکی ہے۔ بَاب ٢٦ : الْخُطْبَةُ عَلَى الْمِنْبَرِ منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے ) مخاطب ہونا وَقَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّبِيُّ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ۔ منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے ) مخاطب ہوئے ۔ ۹۱۷: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ ۹۱۷: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: یعقوب حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بن عبد الرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبد قاری قرشی مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيُّ اسكندرانی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوحازم بن دینار الْقُرَشِيُّ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ ساعدی کے پاس آئے اور ان کا منبر کے متعلق اختلاف سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ تھا کہ اس کی لکڑی کس ( درخت) کی تھی۔ انہوں نے