صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 311 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 311

صحيح البخاری جلد ۲ ٣١١ ١١ - كتاب الجمعة عَنِ الزُّهْرِي قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يونس بن یزید) نے ہمیں بتایا۔زہری سے مروی يَزِيْدَ يَقُوْلُ إِنَّ الْأَذَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے سائب بن یزید کو کہتے كَانَ أَوَّلُهُ حِيْنَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ يَوْمَ سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکڑ اور الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَر فِي عَهْدِ رَسُولِ حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں جمعہ کے دن اللهِ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ پہلی اذان تب ہوا کرتی تھی جب امام جمعہ کے دن عَنْهُمَا فَلَمَّا كَانَ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ منبر پر بیٹھتا۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ه وَكَفُرُوْا أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خلافت کا زمانہ ہوا اور لوگ زیادہ ہو گئے تو حضرت بالْأَذَانِ الثَّالِثِ فَأُذِنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ عثمان نے جمعہ کے دن تیسری اذان کا حکم دیا اور وہ فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ۔اطرافه ۹۱۲، ۹۱۳، ۰۹۱۵ تشریح: زوراء مقام پر دی گئی۔پھر یہی دستور رہا۔التَّاذِينُ عِندَ الْخُطْبَة : جب امام خطبہ کا ارادہ کرے تو اس وقت اذان دی جائے۔سائب بن یزید کی یہ روایت ابھی گذر چکی ہے۔بَابِ ٢٦ : الْخُطْبَةُ عَلَى الْمِنْبَرِ منبر پر ( کھڑے ہو کر لوگوں سے ) مخاطب ہونا وَقَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّبِيُّ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ( کھڑے ہوکرلوگوں سے ) مخاطب ہوئے۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ۔۹۱۷: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيْدٍ قَالَ :۹۱۷: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: یعقوب حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن بن عبد الرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبد قاری قرشی مُحَمَّدِ بْن عَبْدِ اللَّهِ بْن عَبْدِ الْقَارِيُّ اسکندرانی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوحازم بن دینار الْقُرَشِيُّ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ ساعدی کے پاس آئے اور ان کا منبر کے متعلق اختلاف سَعْدِ السَّاعِدِيَّ وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ تھا کہ اس کی لکڑی کس ( درخت) کی تھی۔انہوں نے