صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 290
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۹۰ ١١ - كتاب الجمعة ابْن عَبَّاس أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ جُمُعَةٍ عبد الرحمن) ضبعی سے، ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس ت بَعْدَ جُمُعَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ پہلا جمعہ جو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ عَبْدِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد والے جمعہ کے بعد ہوا ، وہ بحرین کے علاقہ جوائی میں عبد القیس کی مسجد الْقَيْسِ بِجُوَاثَى مِنَ الْبَحْرَيْنِ۔اطرافه: ٤٣٧١۔** میں ہوا۔۸۹۳: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ :۸۹۳ بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا : عبداللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ بن مبارک) نے ہمیں بتایا، کہا: یونس نے زہری سے الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا، ( کہا: ) ہمیں سالم بن عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ہے۔( ) انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا } كُلُّكُمْ رَاعٍ وَزَادَ اللَّيْثُ قَالَ يُونُسُ آپ فرماتے تھے تم میں سے ہر ایک پاسبان ہے۔لیث بن سعد) نے اپنی روایت میں اتنا زیادہ کیا۔یونس كَتَبَ رُزَيْقُ بْنُ حُكَيْمٍ إِلَى ابْنِ شِهَابٍ نے کہا: زریق بن حکیم نے ابن شہاب کو لکھا جبکہ میں ان وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَئِذٍ بِوَادِي الْقُرَى هَلْ دنوں وادی القریٰ میں ابن شہاب کے پاس تھا۔کیا آپ تَرَى أَنْ أُجَمِّعَ وَرُزَيْقٌ عَامِلٌ عَلَى کی رائے ہے کہ میں جمعہ پڑھاؤں اور اس وقت رزیق أَرْضِ يَعْمَلُهَا وَفِيْهَا جَمَاعَةٌ مِنَ اپنی زمین میں کھیتی کر رہے تھے۔وہاں کچھ حبشی وغیرہ بھی السُّوْدَانِ وَغَيْرِهِمْ وَرُزَيْقٌ يَوْمَئِذٍ عَلَى تھے اور رزیق ایلہ کے حاکم تھے۔ابن شہاب نے لکھا کہ أَيْلَةَ فَكَتَبَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَنَا أَسْمَعُ جمعہ پڑھایا کریں اور میں سن رہا تھا۔یہ بھی بتایا کہ سالم يَأْمُرُهُ أَنْ يُجَمِّعَ يُخبرُهُ أَنَّ سَالِمًا نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے تھے : حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ تم میں سے ہر سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ایک پاسبان ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعیت کی فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ ” ان کی بجائے ”قَالَ سَمِعْتُ“ کے الفاظ ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۴۸۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔