صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 110
صحیح البخاری جلد ۲ 11۔١٠ - كتاب الأذان تَابَعَهُ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ وَابْنُ الْمُبَارَكِ ) وليد بن مسلم ) کی طرح بشر بن بکر ، ابن مبارک اور بقیہ نے بھی اوزاعی سے روایت کرتے ہوئے یہ وَبَقِيَّةُ عَنِ الْأَوْزَاعِي۔اطرافه ٨٦٨ بیان کیا ہے۔۷۰۸: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَحْلَدٍ قَالَ :۷۰۸ خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: شَرِيْكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ شریک بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے بْنَ مَالِكِ يَقُوْلُ مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ کہا: میں نے حضرت انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ مِنَ النَّبِيِّ سنا کہ میں نے کبھی کسی امام کے پیچھے نبی ﷺ سے وَإِنْ كَانَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ زياده بلکی اور اچھی نماز نہیں پڑھی اگر آپ بچے کا رونا فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهُ۔سنتے تو معا نماز ملکی کر دیتے۔اس خوف سے کہ اس کی ماں پریشان ہوگی۔اطرافه ۷۰٦، ۷۰۹، ۷۱۰- ٧٠٩: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ :۷۰۹ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا يزيد بن زریع نے ہم سے بیان کیا، کہا: سعید نے ہم سَعِيْدٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ سے بیان کیا، کہا: قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ مَالِكِ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز لمبی پڑھنے کے ارادہ سے أُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِي شروع کرتا ہوں اور اتنے میں بچے کا رونا سنتا ہوں تو فَأَتَجَوَّرُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ میں نماز مختصر کر دیتا ہوں۔اس لئے کہ میں اس تکلیف کو جانتا ہوں جو اس کی ماں کو اپنے بچے کے رونے وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ۔اطرافه: ۷۰٦، ۷۰۸، ۷۱۰ سے پہنچتی ہے۔