صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 636 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 636

البخارى- جلد ا ۶۳۶ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة انتشار کا یہ انتظام نہوتا تو سارا عالم گزر جہنم بن جا تایا گز کا زمہریرہ۔ہرافراط کا ایک اپنار د فعل ہوتا ہے جو خود عنصر کے وجود کو معرض اضمحلال میں ڈال دیتا ہے۔اگلَ بَعْضِی بَعْضًا کا جملہ افراط کے اسی طبعی میلان کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ہر عصر میں پایا جاتا ہے اور کسی مخلوق کو شکایت پیدا ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ طبیعی اعتدال سے ادھر ادھر ہٹ رہی ہے۔غرض امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا حوالہ برمحل دے کر ضمناً فيحِ جَهَنَّم کی تشریح کر دی ہے اور بتایا ہے کہ سخت گرمی کو جہنم کی لپٹ کہا ہے۔یہاں آگ کو جہنم کا مظہرا کب قرار دیا ہے اور قرآن مجید کی آیت حَمِيمًا وَّغَشَاقًا سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ جہنم میں سخت گرمی اور سخت سردی کے دونوں مظاہر ے پائے جاتے ہیں۔(النبا ۲۶) ایک روایت میں آتا ہے: نَارُكُمْ جُزْء مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ (بخاری) كتاب بدء الخلق۔با ب صفة النار وأنها مخلوقة: ۳۲۶۵) یعنی ہماری یہ آگ جہنم کا سترواں (۱۷۰) حصہ ہے تفصیلی بحث کے لیے دیکھئے تشریح کتاب بدء الخلق۔باب ١٠: صفة النار وأنها مخلوقة۔روایت نمبر ۳۲۶۵) تَابَعَهُ سُفْيَانُ :( نمبر ۵۳۸): روایت نمبر ۵۳۶ - ۵۳۷ کے الفاظ دیکھنے سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلى رَبِّهَا اس وقت فرمایا تھا جب آپ نماز ٹھنڈے وقت پڑھنے کی ہدایت فرما رہے تھے۔اس غلط انہی سے بچانے کے لیے اور یہ بتانے کے لیے کہ یہ الگ روایت ہے، روایت نمبر ۵۳۸ کا اعادہ کر کے اس کے آخر میں سفیان ثوری " کا حوالہ دیا گیا ہے کیونکہ سابقہ روایت (نمبر ۵۳۶) بھی انہی کی سند سے بیان کی گئی ہے۔سفیان ثوری کی روایت میں جو کہ کتاب بدء الخلق باب ١٠: صفة النار وأنها مخلوقة۔روایت نمبر ۳۲۵۹ میں درج ہے، وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا کے الفاظ نہیں۔باب ۱۰: الْإِبْرَادُ بِالظَّهْرِ فِي السَّفَرِ سفر میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنا ٥٣٩: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ :۵۳۹ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مُهَاجِرٌ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: مہاجر ابو حسن نے أَبُو الْحَسَنِ مَوْلًى لِبَنِي تَيْمِ اللهِ قَالَ جو کہ بنی تیم اللہ کے مولی ( آزاد کردہ غلام) تھے ہم سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍ سے بیان کیا، کہا: میں نے زید بن وہب سے سنا کہ الْغِفَارِيِّ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله حضرت ابوذرغفاری سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے۔أَنْ يُؤَذِنَ لِلظُّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى موذن نے ظہر کی اذان دینے کا ارادہ کیا تو نبی صلی