صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 628
البخارى- جلد ا ۶۲۸ ۹ - كتاب مواقيت الصلوة ہے۔پڑھی جائے۔وقت کے بعد نماز پڑھنے سے وہ مقصد غائب ہو جاتا ہے جس کو مد نظر رکھ کر وقت کی پابندی کی شرط لگائی گئی ہے سوال أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلى الله کا جواب جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے وہ سائل کو مد نظر رکھ کر دیا ہے۔مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سے یہ سوال مختلف لوگوں نے پوچھا اور آپ نے سوال کرنے والے کی حالت اور موقع و محل کی مناسبت سے اس کا جواب بھی مختلف دیا ہے۔ابتدائے اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ کی اشد ضرورت تھی تو اس وقت آپ نے جہاد کو افضل الاعمال قرار دیا۔(بخاری کتاب العتق باب اتى الرقاب افضل روایت نمبر ۲۵۱۸) نصوص صریحہ سے ثابت ہے کہ نماز صدقہ سے افضل ہے مگر ایک مضطر کے لیے صدقہ کا انتظام کرنا افضل ہوگا خواہ نماز میں کچھ تاخیر بھی ہو جائے۔یہاں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص حالات مد نظر رکھ کر جواب دیا ہے یعنی حقوق اللہ میں نماز جو وقت پر پڑھی جائے سب سے پیارا عمل ہے۔حقوق القربی میں والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور حقوق العباد میں بندگانِ خدا کی روحانی اصلاح میں کوشاں رہنا۔پوچھنے والے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ہیں۔حضرت عبد اللہ بغیر کنیت سے یہی مراد ہوتے ہیں۔بَاب ٦ : الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ وَلِلْخَطَايَا } پانچ نمازیں (خطاؤں کا ) کفارہ ہوتی ہیں إِذَا صَلَّاهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ فِي الْجَمَاعَةِ جب انہیں اپنے وقت پر باجماعت اور بغیر جماعت وَغَيْرهَا۔پڑھے۔٥٢٨ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ :۵۲۸ ابراهیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ابن ابی حازم اور دراوردی نے مجھے بتایا۔انہوں نے وَالدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ یزید سے، یزید نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابْنِ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ ابوسلمہ بن عبد الرحمان سے۔ابوسلمہ نے حضرت عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابو ہریرہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے۔بھلا بتاؤ تو يَقُوْلُ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ سہی کہ اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے کے أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا پاس ندی ہو جس میں وہ ہر روز پانچ دفعہ نہائے۔تمہارا مَا تَقُوْلُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قَالُوْا لَا کیا خیال ہے یہ ( نہانا ) اس کی کچھ میل باقی رہنے لفظ لِلْخَطَايَا فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے (فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۱۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔