صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 611
البخارى- جلد ) ۶۱۱ ٨- كتاب الصلوة عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کوئی چیز نہیں توڑتی۔عروہ بن زبیر نے مجھے بتلایا کہ قَالَتْ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَقُومُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ کہتی تھیں فَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَإِنِّي لَمُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اُٹھ کر نماز وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى فِرَاشِ أَهْلِهِ۔پڑھتے اور میں آپ کی بیوی کے بستر پر آپ کے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی میں پڑی ہوتی۔اطرافه ۳۸۲، ۳۸۳، ۳۸۴، ۵۰۸، ۵۱۱، ۵۱۲، 513۳، 514، 519، ۹۹۷، ١٢۰۹، ٦٢٧٦۔تشریح : لَا يَقْطَعُ الصَّلوةَ شَيْء با الفاظ ہری کی روایت کے ہیں جو اسی باب میں نمبر۱۵ء میں بیان کی گئی ہے۔امام مالک نے بھی اپنی موطا میں زہری سے یہی الفاظ نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جز اول صفحہ ۷۶ ) پہلی روایت یعنی نمبر ۵۱۴ مسلم نے بھی نقل کی ہے اور علامہ طحاوی نے بھی اسے سات صحیح مستند طریقوں سے نقل کیا ہے جن کا ذکر علامہ عینی نے اپنی شرح میں باتفصیل کیا ہے۔(عمدۃ القاری جزء رابع صفحہ ۲۹۹) ان سب کا مفہوم یہی ہے کہ حضرت عائشہ نے سوال مذکور پر نفرت کا اظہار کیا۔ان کے الفاظ سے تو صرف اتنا ہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ خود نا پسند کرتی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بحالت نماز بیٹھ کر یا چل پھر کر آپ کی توجہ بنائیں لیکن آپ نے اس امر کی پرواہ نہیں کی کہ آیادہ سامنے ہیں یا اُن کا کپڑا یا بدن آپ کو چھورہا ہے۔دوسری روایت لاکر مسئلہ (لَا يَقْطَعُ الصَّلوةَ شَيْءٌ) کی عمومیت ثابت کی گئی ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کی ناپسندیدگی کا اظہار جنس اناث کے ساتھ ہی نہیں بلکہ نفس مسئلہ کے ساتھ من حیث العموم تعلق رکھتا ہے۔باب ۱۰۰ میں حضرت ابن عمر اور حضرت ابوسعید کے حوالوں سے جو حدیثیں بیان کی گئی ہیں اُن کا مفہوم یہ ہے کہ نمازی کو بحالت نماز اجازت ہے کہ وہ اپنے سامنے سے گزرنے والے کو ہٹا دے اور یہ اجازت اس لیے نہیں دی گئی کہ اس کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔مسلمان کی نماز تو سوائے طہارت میں خلل آنے کے اور کسی چیز سے نہیں ٹوٹتی۔امام بیہقی نے عکرمہ کی یہ روایت نقل کی ہے: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسِ أَتَقْطَعُ الصَّلوةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ فَقَالَ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ فَمَا يَقْطَعُ هَذَا وَلَكِنْ يُكْرَهُ۔(عمدة القارى جزء رابع صفحه ۳۰۰) یعنی حضرت ابن عباس سے پوچھا گیا کہ کیا عورت اور کتا اور گدھا نماز توڑ دیتے ہیں؟ تو انہوں نے اس آیت کا حوالہ دے کر جواب دیا کہ نماز کا تعلق پاکیزہ معانی اور اس عمل صالح کے ساتھ ہے جو ان معانی کو اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچاتے ہیں۔اس شئے کو کون تو ڑ سکتا ہے۔نمازی کے سامنے ان چیزوں کا ہونا صرف مکروہ ہے۔بوجہ اس کے کہ ان سے اس کی توجہ بٹنے کا احتمال ہوتا ہے ورنہ حقیقی مسلمان کی نماز میں تو کوئی شئے بھی خلل انداز نہیں ہو سکتی۔حضرت ابن عمر سے بھی یہ سوال پوچھا گیا تھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا: لَا يَقْطَعُ صَلوةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ۔تفصیل کے لیے دیکھئے عمدۃ القاری جزء رابع صفحه ۲۹۹) امام بخاری نے یہ باب قائم کر کے سابقہ بابوں پر مزید روشنی ڈالی ہے کہ سامنے سے گزرنے والے کے ہٹانے کے