صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 548 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 548

البخاری جلد ) ۵۴۸ - كتاب الصلوة إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ سے کیا مراد ہے؟ اور حضرت عمار بن یا سٹر کن کو جنت کی طرف بلاتے تھے ؟ بعض شارحین نے ان لوگوں سے کفار قریش مراد لئے ہیں (فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۰۲) کیونکہ انہوں نے حضرت عمار بن یاسر اور ان کے والدین کو سخت سے سخت اذیتیں دی تھیں۔انہیں نہایت بے رحمی اور شرمناک طریقوں سے قتل کیا تھا۔(دیکھئے اصابہ تحت ذکر یاسر) بعض نے روایت کے الفاظ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ کی بناء پر ان لوگوں سے مراد معاویہ کا گر وہ لیا ہے جس کے ہاتھ سے حضرت عمار بن یاسر جنگ صفین میں شہید ہوئے۔مگر بقول حمیدی؛ امام بخاری نے ان الفاظ کا قطعاذ کر نہیں کیا جس کی وجہ یہ ہے کہ ہزار کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوسعید بناء مسجد کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کرتے تھے: فَحَدَّثَنِی اَصْحَابِي وَلَمْ أَسْمَعُهُ مِنْ رَّسُولِ اللَّهِ ل الله أَنَّهُ قَالَ يَابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ۔یعنی میں نے یہ الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنے بلکہ میرے ساتھیوں نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا تھا۔علامہ ابن حجر نے (حمیدی کے قول کی تطبیق کرتے ہوئے) اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ اسی وجہ سے امام بخاری نے حضرت ابو سعید کی روایت بیان کرتے ہوئے مذکورہ بالا الفاظ نظر انداز کر دیے ہیں۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۰۲) بناء بریں بالوثوق نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کے ان الفاظ سے مراد اہل صفین ہی ہیں۔یہ بالکل ممکن ہے کہ امام بخاری نے یہ حذف اس خیال کی بناء پر کیا ہو کہ حضرت ابوسعید نے یہ الفاظ خود نہیں سنے۔مگر ان کے اس بیان سے کہ حضرت عمار فتنوں سے محفوظ رہنے کی دعا کیا کرتے تھے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اپنے متعلق کسی نہ کسی فتنہ کا اندیشہ ضرور تھا اور یہ کہ نبی ﷺ کے الفاظ کسی فتنہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔نیز صحابہ کی ایک جماعت کی روایات کی بناء پر اگر تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ البَاغِيَةُ کی روایت صحیح تسلیم کی جائے تو پھر الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاویہ کی طرف سے حضرت علی کے مقابل پر صفین مقام پر لڑنے آئے تھے۔ان کو خلیفہ وقت کی نافرمانی کی وجہ سے باغی قرار دیا گیا ہے۔ابن حجر اور دیگر شارحین اس صورت میں الستار سے مراد خلیفہ کی نافرمانی اور جنت سے مراد اس کی اطاعت لیتے ہیں : اس لئے کہ ہر نیک کام جنت میں اور ہر بُرا کام جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہوتا ہے اور خلیفہ وقت کی بغاوت تو قوم کے لئے تباہ کن نتائج رکھتی ہے۔جیسا کہ اس کا ایک ہیبت ناک نمونہ مسلمانوں نے حضرت علی اور معاویہ کی جنگوں میں دیکھا۔ان جنگوں کے حالات پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر حضرت علی کے پر جوش مددگاروں میں سے تھے۔جنگ صفین میں عمرو بن عاص ان کے مقابل پر دو دفعہ لڑنے کے لئے نکلے۔پہلے حملہ میں عمرو بن عاص نے سخت شکست کھائی اور دوسرے حملہ میں حضرت عمار شہید ہو گئے۔اس پر امیر معاویہ کے لشکر میں کہرام مچ گیا۔یہاں تک کہ عمرو بن عاص بھی گھبراگئے کہ پیشگوئی کہ مطابق الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ سے امیر معاویہ کا گروہ ثابت ہوتا ہے جس کے ہاتھ سے وہ قتل ہوئے۔امیر معاویہ نے یہ کہہ کر عمرو بن عاص کی جھٹ تسلی کر دی کہ حضرت عمار بن یاسر کے قتل کا اصل باعث حضرت علی ہیں جو ان کو اس جنگ میں لائے ہیں اور جو حملہ آور ہیں؛ نہ کہ ہم جو مدافعت کر رہے ہیں۔ہی ( فتح الباری جزء اول صفحه ۷۰۱-۷۰۲ ) (عمدۃ القاری جزء چہارم صفحه ۲۰۹)