صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 506 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 506

البخاری جلد ا ۵۰۶ - كتاب الصلوة تشریح: مَا جَاءَ فِي الْقِبْلَةِ : بتیسواں باب ایک اختلافی مسئلہ حل کرنے کے لئے باندھا گیا ہے۔یعنی اگر کوئی غلطی سے کسی اور طرف منہ کر کے نماز پڑھے اور بعد میں معلوم ہو تو کیا وہ نماز دُھرائے۔امام مالک اور زہری وغیرہ کا یہ فتویٰ ہے کہ اگر نماز پڑھنے کے بعد اُسی وقت علم ہو جائے تو دھرائے ورنہ نہیں۔امام شافعی کی رائے ہے کہ جب بھی غلطی معلوم ہو نماز دُھرائے۔امام بخاری کا فتویٰ ان دونوں کے خلاف ہے۔عنوان باب میں امام بخاری نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دور رکعتیں پڑھ کر مڑے اور لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے۔آپ در حقیقت نماز کی حالت میں تھے۔کیونکہ نماز آدھی پڑھی گئی تھی اور آدھی اُس وقت پڑھنی باقی تھی جو آپ نے بعد میں پڑھی۔اس وقفہ کے انثناء میں آپ کا قبلہ چھوڑ کر کسی اور طرف منہ کرنا بھی در حقیقت اسی طرح سہو ونسیان کی حالت میں تھا جس طرح نماز کی عدم تکمیل۔قبلہ رخ ہونا بھی تو نماز کا حصہ ہے مگر اس بھول کی وجہ سے آپ نے پہلی دور کعتیں نہیں ڈھرا ئیں۔امام موصوف کا یہ بار یک استدلال ہے جس کی تشریح امام ابن حجر نے کی ہے۔(فتح الباری۔جزء اول صفحہ ۴ ۶۵) باقی سب روایتیں اسی استدلال کی تائید میں لائے ہیں۔روایت نمبر ۲۰۲ کا مدعا یہ ہے کہ پہلی نماز میں دہرائی نہیں گئیں۔یہ روایت ان لوگوں کا زعم باطل رد کرنے کے لئے لائی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے جب بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تو مکہ مکرمہ میں کعبہ کو بھی اپنے سامنے رکھ لیتے تھے۔اس لئے ان نمازوں کے دھرانے کی ضرورت نہ تھی۔ان لوگوں کا خیال ہے کہ مکہ میں کعبہ کی طرف بھی منہ کرنے کا حکم تھا۔پھر مدینہ میں یہ حکم منسوخ ہوا اور بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا۔پھر یہ حکم دوبارہ منسوخ ہوا اور اس طرح کعبہ آخری قبلہ ٹھہرا۔گویا ان کے نزدیک دو دفعہ رخ ہوا ہے جو بالکل غلط ہے۔حضرت عمر کی خواہش بتلاتی ہے کہ مقام ابراہیم کے متعلق اس سے پہلے کوئی حکم الہی نازل نہیں ہوا تھا۔جس کو مدینہ میں پہلے منسوخ کیا گیا ہو۔سابقہ شریعت کے ماتحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم عملدرآمد کرتے تھے اور یہ آپ کا اجتہاد تھا۔نہ وحی الہی کا کوئی خاص حکم جو بعد میں منسوخ ہوا ہو۔وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ۔۔۔: روایت نمبر ۳۹۲ کے آخر میں ابن ابی مریم کا حوالہ دینے سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ حضرت انس سے محمید کی سماعت ثابت ہے۔اس میں تدلیس واقع نہیں ہوئی (فتح الباری۔جزء اول صفحہ ۶۵۵) روایت نمبر ۳ ۴۰ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حالت نماز میں صحابہ مُڑ گئے اور انہوں نے پڑھی ہوئی نماز نہیں دُہرائی۔باب ۳۳ : حَكُ الْبُرَاقِ بِالْيَدِ مِنَ الْمَسْجِدِ مسجد سے اپنے ہاتھ سے تھوک گھر چنا ٤٠٥: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ۴۰۵ : ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: اسماعیل بن إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ جعفر نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے حمید سے۔حمید نے أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت انس سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم