صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 472 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 472

صحيح البخاری جلد ا ۴۷۲ تشریح: تبان چھوٹے پاجانے یا جانے کو کہتےہیں جوگا - كتاب الصلوة جو گھٹنوں کے اوپر تک ہوتا ہے۔ (لسان العرب تحت لفظ تبن ) آج کل نگر کا لفظ اس کا مترادف ہے۔ بعض کے نزدیک گھٹنے کے اوپر کا سارا حصہ عورۃ یعنی ستر ہے۔ اس اختلافی مسئلہ کے متعلق لئے ایسا لباس پہن کر جو گھٹنے کو نہ ڈھانپتا ہو نماز پڑھنا جائے رھنا جائز نہیں۔ ا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس اختلافی ایک جامع باب باندھا ہے۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ لباس کے متعلق کوئی پابندی نہیں۔ سوائے اس کے جو حدیث نمبر ۳۶۶ میں مذکور ہے۔ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِم: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب قابل غور ہے۔ سائل پوچھتا ہے کہ محرم کیا پہنے؟ آپ اپنے جواب میں پہننے کی اشیاء نہیں گنتے ؛ کیونکہ وہ بے شمار ہیں۔ نہ پہننے کی چند چیزوں کا نام لیتے ہیں اور باقی کے متعلق خاموشی اختیار کر کے عام اجازت دیتے ہیں۔ بَاب ۱۰: مَا يَسْتُرُ مِنَ الْعَوْرَةِ ننگ کا کونسا حصہ ڈھانپا جائے ٣٦٧: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ ٣٦٧ : ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا لیٹ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ نے حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت کی ۔ وہ کہتے اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز میں ) اشتمال صماء سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ آدمی ایک ہی الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْئً۔ کپڑا پہنے ہوئے زانو اُٹھا کر اس طرح بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر اس کپڑے میں سے کچھ نہ ہو۔ اطرافه ۱۹۹۱ ، ۲۱٤٤ ، ۲۱۴۷، ٥٨۲۰، ٥٨٢٢، ٦٢٨٤۔ ٣٦٨ : حَدَّثَنَا قَبِيْصَةُ بْنُ عُقْبَةَ قَالَ ۳۶۸ : ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابو زناد سے، ابو زناد نے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ کہ نبی ﷺ نے دو قسم کی خرید و فروخت سے منع فرمایا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ عَنِ ہے لِماس اور نباد سے۔ نیز اس سے منع فرمایا ہے اللِّمَاسِ وَالتِبَاذِ وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ کہ آدمی نماز میں) کپڑے کو اس طرح پر لیٹے کہ