صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 462 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 462

صحيح البخاری جلد ا ام - كتاب الصلوة تشریح: چونکہ صرف ایک کپڑے میں نماز پڑھنا خُذُوا زِينَتَكُم کے ارشاد کے خلاف سمجھا جاتا تھا اس لئے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جو دوروایتیں پیش کی ہیں ان سے زمانہ تنگدستی کے حالات مجبوری کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ یعنی ایسی حالت میں ایک کپڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے۔ صَلَّوا مَعَ النَّبِيِّ الله عَاقِدِى ازْرِهِمْ عَلَى عَوَائِقِهِمْ: عنوانِ باب میں یہاں کندھوں پر نہ بند باندھ کر جن نماز پڑھنے والوں کا حوالہ دیا گیا ہے وہ لوگ اصحاب الصفہ تھے۔ ا (دیکھئے کتاب الصلوة۔ باب ۵۸ : نَوْمُ الرِّجَالِ فِي الْمَسْجِدِ (۴۴۲) روایت نمبر ۳۵۳٬۳۵۲ : خُذُوا زِينَتَكُمْ کے ارشاد کے متعلق غلو سے کام لینے والوں کے خیال کی غلطی ثابت کرنے کے لئے حضرت جابرؓ نے باوجود دوسرے کپڑے ہونے کے ایک کپڑے میں نماز پڑھی۔ (یہی مضمون روایت نمبر ۳۷۰ میں بھی ہے ) صلى الله عل رَأَيْتُ النَّبِيَّ ل لم يُصَلِّي فِي ثَوُب: : روایت روایت نمبر نمبر ۳۵۳ ۳۵۳ سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھی۔ پس خُذُوا زِينَتَكُمْ کا یہ مفہوم لینا کہ جب تک عمدہ کپڑے نہ پہنے جا ئیں نماز نہ ہوگی ، غلط ہے۔ اسلام نے استثنائی صورتوں کو نظر انداز نہیں کیا۔ بَاب ٤ : الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ مُلْتَحِفًا بِهِ ایک ہی کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھنا قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ الْمُلْتَحِفُ زہری نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ مُلْتَحِق کے الْمُتَوَشِحُ وَهُوَ الْمُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهِ مِعانی متوشح ہیں۔ یعنی وہ (شخص) جس نے اپنے عَلَى عَاتِقَيْهِ وَهُوَ الِاشْتِمَالُ عَلَى کپڑے کے دونوں کناروں کو مخالف سمت سے لاکر اپنے کندھوں پر باندھا ہوا ہو اور یہی (عربی میں ) مَنْكِبَيْهِ قَالَ قَالَتْ أُمُّ هَانِي الْتَحَفَ اشتمال ہوتا ہے۔ اور حضرت ام ہانی کہتی تھیں کہ نبی صلى الله النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِ ۔ نے ایک ہی کپڑے میں اپنے آپ کو لپیٹا اور وَخَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَائِقَيْهِ۔ دونوں کناروں کو مخالف سمت سے لا کر اپنے کندھوں پر ڈال دیا۔ ٣٥٤: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ۳۵۴ : ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے اپنے باپ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى ہے، اُن کے باپ نے حضرت عمرؓ بن ابوسلمہ سے