صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 437
حيح البخاري - جلد ا ۴۳۷ - كتاب التيمم * فَصَلَّيْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى سفر میں تھے۔آپ نے تو نماز نہ پڑھی اور میں تو مٹی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله میں ( جانور کی طرح) لوٹا تھا اور نماز پڑھ لی تھی۔میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا نے نبی ﷺ کے پاس اس کا ذکر کیا تو نبی علی فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: تم کو صرف اس طرح کافی تھا اور آپ نے بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ وَنَفَخَ فِيْهِمَا ثُمَّ مَسَحَ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر اُن میں پھونکا بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفِّيْهِ۔اور اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔اطرافه: ۳۳۹، ٣٤۰، ٣٤١ ، ٣٤٢ ، ٣٤٣ ، ٣٤٥، ٣٤٦، ٣٤٧ تشریح سیم کرنے کا طریق: تیم کرنے کے متعلق قرآن مجید کا حکم فَا مُسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمُ (المائدة: اپنے اندر ایک لفظی اشکال رکھتا تھا۔یعنی آیا ایدی سے مراد کہنیوں تک یا مونڈھوں تک سارا بازو ہے یا یہ کہ صرف ہاتھ مراد ہیں۔امام بخاری نے روایت نمبر ۳۳۸ کے الفاظ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ سے اصل مراد کی تعیین کی ہے۔گف کلائی سے لے کر ہاتھ کے اگلے حصہ کو کہتے ہیں۔فقہاء نے اپنی عادت کے مطابق اس مسئلہ میں بھی چار اختلاف کئے ہیں۔جس کی وجہ سے امام موصوف کو یہ باب باندھنے کی ضرورت ہوئی۔آئی تَمْسَحَ بِيَدَيْكَ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ - ( بداية المجتهد كتاب التيمم۔الباب الرابع في صفة هذه الطهارة۔المسئلة الاولى اختلف الفقهاء في حد الايدى ) والی روایت امام بخاری کی شروط صحت کے مطابق مستند نہیں۔وَنَفَخَ فيهِمَا سے ظاہر ہے کہ چہرے اور ہاتھوں پر مٹی کا لگا نا ضروری نہیں۔عنوان باب هَلْ يَنْفُخُ جو کہا ہے تو ان الفاظ سے اسی اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے جو امام شافعی نے دوسرے ائمہ سے کیا ہے۔ان کے نزدیک جسم سے مٹی لگانا ضروری ہے۔امام بخاری امام مالک اور امام ابو حنیفہ وغیرہم کی تائید کر رہے ہیں۔(بداية المجتهد كتاب التيمم۔الباب الرابع المسئلة الثالثة اختلف الشافعي مع مالک) حضرت عمر نے سائل کو یہ جواب دیا تھا کہ جب تک پانی نہ ملے نماز نہ پڑھو۔جس پر حضرت عمار بن یاسر نے اپنا واقعہ سنایا۔( فتح الباری الجزء الاول صفحہ ۵۷۵) بَابِ ٥ : التَّيَمُّمُ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کرنا :۳۳۹: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ۳۳۹: ہم سے حجاج نے بیان کیا کہا: شعبہ نے ہمیں شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ ذَرٍ عَنْ سَعِيدِ بتایا۔انہوں نے حکم سے، حکم نے ذر سے، ذرا نے ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْرَى عَنْ أَبِيْهِ قَالَ سَعِيد سعید بن عبد الرحمن بن ابزگی سے، انہوں نے اپنے لفظ ذلک فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۵۷۴ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔