صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 436 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 436

صحيح البخاري - جلد ا ۴۳۶ - كتاب التيمم لیں اور بیمار جس کے پاس پانی تو ہے مگر اس کو استعمال نہیں کر سکتا۔ یا اُس سے اُس کو نقصان کا ڈر ہے تو وہ بھی تیمم کرلے کیونکہ اس کے لئے پانی کا ہونا نہ ہونا برابر ہے اور وہ بھی در حقیقت اس مسافر کی طرح ہے جس کو پانی نہیں ملتا۔ بداية المجتهد كتاب التيمم۔ الباب الثانى فى معرفة من تجوز له هذه الطهارة) مذکورہ بالا اختلاف کی وجہ سے امام موصوف نے یہ باب قائم کیا ہے۔ اس ضمن میں یہ بحث بھی اٹھائی گئی ہے کہ آیا تیم پانی نہ ملنے پر اس وقت کیا جائے جب نماز کا وقت اپنی آخری حد کو پہنچنے لگے یا یہ کہ جب وہ شروع ہو جائے؟ اور یہ کے آیا پانی تلاش کرنا تمیم کے جائز ہونے یا نہ ہونے کے لئے شرط ہے؟ عنوان باب میں حضرت ابن عمر کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ اسی اختلاف کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہے۔ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ : امام موصوف نے اختلافات مذکورہ بالا کی طرف اشارہ کر کے جو روایت پیش کی ہے اس سے غالباً یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جب ادنی سی ضرورت پر جو بغیر وضوادا کی جا روضوا دا کی جاسکتی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی نہ ملنے پر تیمیم کیا تو نماز جیسی اہم ضرورت کے لئے کیوں تیتم نہ کیا جائے۔ خصوصاً جبکہ نماز کے ضائع ہونے کا خوف ہو۔ اس سے امام ابو حنیفہ کے مذہب کارڈ کرنا مقصود ہے۔ باقی اختلافات بوجہ مستند احادیث نہ ملنے کے نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔ ان فقہی اختلافات کی تفصیل کے لئے دیکھئے بداية المجتهد۔ كتاب التيمم۔ الباب الثاني في معرفة من تجوز له هذه الطهارة ) روایت نمبر ۳۳۷ میں سلام کرنے والے خود حضرت ابو جہیم ہی ہیں۔ ( فتح الباری جزء اول صفحه ۵۷۳) باب ٤ : الْمُتَيَمِّمُ هَلْ يَنْفُخُ فِيهِمَا کیا تیمم کرنے والا اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونک مارے سے ۳۳۸ : حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۳۳۸ : ہم سے آدم نے بیان کیا کہا: شعبہ نے ہم حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ ذَرِّ عَنْ سَعِيدِ بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ) حکم نے ہمیں بتلایا۔ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيْهِ قَالَ انہوں نے ذر سے، ذر نے سعید بن عبدالرحمن بن جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ ابزئی سے،انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ الْمَاءَ فَقَالَ انہوں نے کہا کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب کے عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمَا پاس آیا اور کہنے لگا میں جنبی ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا وَأَنْتَ فَأَمَّا تو حضرت عمار بن یاسر نے حضرت عمر بن خطاب سے أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَكُتُ کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ ہم یعنی میں اور آپ ایک