صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 424 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 424

صحيح البخاری جلد ) ۴۲۴ ٦ - كتاب الحيض بَابِ ٢٦ : عِرْقُ الْإِسْتِحَاضَةِ خونِ استحاضہ کی رگ :۳۲۷ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۳۲۷ ہم سے ابراہیم بن منذر (حزامی) نے بیان کیا قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ حَدَّثَنِي کہا: معن نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا کہ ابن ابی ابْنُ أَبِي ذِنْبِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ ذب نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے ابن شہاب وَ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ سے ، ابن شہاب نے عروہ سے اور عمرہ سے، ان دونوں نے حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سے روایت کی کہ حضرت ام حبیبہ سات سال تک استحاضہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُمَّ حَبِيْبَةَ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِيْنَ فَسَأَلَتْ سے بیمارر ہیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے ان سے فرمایا ذَلِكَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ فَقَالَ هَذَا عِرْقُ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةِ۔تشریح: کہ وہ نہا لیا کریں اور کہا کہ یہ ایک رگ ( بیماری کی ) ہے۔اس لیے وہ ہر نماز کے لیے نہالیا کرتی تھیں۔عِرْقُ الْاِسْتِحَاضَةِ ہمارے زمانہ کی تحقیق بھی یہی بتلاتی ہے کہ استحاضہ شریان خون کی بیماری کا نتیجہ ہے اور اس کا موجودہ اصطلاحی نام میٹرور ہیجیا (Metrorrhagia) ہے۔خونِ استحاضہ حیض سے بالکل علیحدہ ہوتا ہے۔دونوں کے اسباب الگ الگ ہیں۔شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے استحاضہ الگ بیماری قرار دے کر مستحاضہ عورت کو حیض کی پابندیوں سے مستفی فرمایا اور اسے اجازت دی ہے کہ نیا وضو کر کے نماز پڑھتی رہے اور خون نکلنے کی پرواہ نہ کرے اور اس فرق کو نمایاں کرنے کے لیے امام بخاری نے عنوانِ باب میں استحاضہ کے اصل سبب کو نمایاں کیا ہے۔اسلام نے عبادت روح کی غذا ٹھہرائی ہے۔جسم کی بیماریوں کے سبب سے روح کو اس کی غذا سے کسی وقت بھی محروم نہیں کرنا چاہیے مگر تو رات کے احکام مستحاضہ کے لیے بھی وہی ہیں جو حائضہ کے لیے اور ان دونوں حالتوں میں تمیز نہیں کی گئی۔(احبار باب ۱۵، آیت ۲۵) باب ۱۹ میں بھی روایت ۳۲۷ کا مضمون گذر چکا ہے۔یہاں ایک اختلاف کی وجہ سے اس کا عنوان الگ قائم کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک فریق نے حیض سے فارغ ہونے کے بعد ایک دفعہ غسل کرنا ضروری قرار دیا ہے۔اس کے بعد حالت استحاضہ میں ہر نماز کے وقت وضو کرنا ضروری ہے۔نہانا ضروری نہیں۔یہ مذہب امام مالک، امام شافعی اور امام ابوحنیفہ وغیرہ اکثر علماء کا ہے۔ان کے برخلاف ایک اور فریق ہے جو مستحاضہ کے لیے نہانا ہر نماز کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔امام بخاری نے اس باب میں جو روایت پیش کی ہے اس میں دونوں سندیں اکٹھی کر دی ہیں۔ایک وہ جو عروہ سے مروی