صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 421
صحيح البخاری جلد ) ۴۲۱ ٦ - كتاب الحيض میں اپنے متعلق ایک قسم کی خفت کا احساس پیدا ہو۔اس لیے مناسب سمجھا گیا کہ وہ نماز کے وقت الگ ہو جائے۔المُصَلَّى مصدر میمی ہے اور ظرف زمان اور ظرف مکان دونوں کے معانی دیتا ہے۔اس لیے نماز کا وقت بھی مراد ہو سکتا ہے اور جگہ بھی۔روایت نمبر ۳۲۴ کا آخری حصہ اس اختلاف کو حل کر دیتا ہے۔حفصہ ؛ حضرت ام عطیہ سے متعجب ہو کر پوچھتی ہیں کہ کیا حائضہ عورتیں بھی عید گاہ میں جائیں تو انہوں نے جواب دیا: اس میں ان کے لیے کیا روک ہے؟ کیا عرفات ہوئی ، اور مزدلفہ مقامات وغیرہ میں نہیں جاتیں۔ان مقامات کا بھی تو عبادت سے تعلق ہے۔قصر بنی خلف بصرہ میں تھا۔یہ حل طلحہ بن عبد اللہ بن خلف خزاعی کا تھا جوطلحہ الطلحات کے لقب سے مشہور ہیں۔روایت کرنے والی حفصہ بنت سیرین ہیں جو محمدبن سیرین کی بہن تھیں۔قَدِ مَتِ امْرَأَةٌ اس عورت کا نام معلوم نہیں اور نہ ہی اس کے خاوند کا۔فَحَدَّثَتُ عَنْ أُخْتِهَا اس نے اپنی بہن سے روایت کی۔یعنی حضرت ام عطیہ سے۔(فتح الباری جلد اول صفحه ۵۴۹) اسلام نے دیگر مذاہب کی طرح عورت کو حقیر سمجھ کر عبادتوں اور اجتماعی کاموں سے محروم نہیں رکھا بلکہ مردوں کے دوش بدوش اس کو کھڑا کیا ہے۔حتی کہ حیض کی حالت میں بھی اسے اچھوت سمجھ کر عضو معطل نہیں قرار دیا۔مسلمانوں کے درمیان بعد میں جو حائضہ کے متعلق نفرت آمیز خیالات پیدا ہوئے۔وہ در حقیقت یہودیوں اور عیسائیوں اور مشرک اقوام کے خیالات تھے جن کے اثر کے ماتحت وہ رفتہ رفتہ اپنے مذہب کی حقیقت سے بھی نا آشنا ہو گئے۔بَاب ٢٤ : إِذَا حَاضَتْ فِي شَهْرٍ ثَلَاثَ حِيَضِ جب عورت کو مہینہ میں تین حیض آئیں وَّمَا يُصَدَّقُ النِّسَاءُ فِي حيض اور حمل کے بارہ میں عورتوں کی جو تصدیق کی الْحَيْضِ وَالْحَمْلِ فِيْمَا يُمْكِنُ مِنَ جائے ،اتنی مدت کے متعلق جو حیض کی ہو سکتی الْحَيْضِ لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى وَلَا يَحِلُّ ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ) یعنی ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے ان کے رحموں میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں اور حضرت علی اور شریح سے بیان کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی عورت لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ (البقرة: ٢٢٩) وَيُذْكَرُ عَنْ عَلِيَ وَشُرَيْحٍ إِنِ امْرَأَةٌ جَائَتْ اپنے گھر کے راز دار لوگوں میں سے ایسے شخص کی بِبَيِّنَةٍ مِّنْ بِطَانَةِ أَهْلِهَا مِمَّنْ يُرْضَى شہادت لائے جس کا دین پسندیدہ ہے کہ اسے مہینہ دِيْنَهُ أَنَّهَا حَاضَتْ ثَلَاثًا فِي شَهْرٍ میں تین بار حیض آیا تھا تو اس کو سچا سمجھا جائے گا۔اور