صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 402 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 402

صحيح البخاری جلد ا ۴۰۲ ٦ - كتاب الحيض عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُوْلِ عکرمہ سے عکرمہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بیویوں میں کہ أَزْوَاجِهِ فَكَانَتْ تَرَى الدَّمَ وَالصُّفْرَةَ ایک بیوی اعتکاف بیٹھیں تو وہ خون اور زردی دیکھتیں وَالطَّسْتُ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي۔تھیں اور طشت ان کے نیچے ہوتا اور وہ نماز پڑھتیں۔اطرافه: ۳۰۹، ۳۱۱، ۲۰۳۷ ۳۱۱ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۳۱۱ : ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: معتمر نے مُعْتَمِرٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ہمیں بتلایا۔انہوں نے خالد سے،خالد نے عکرمہ سے، عَائِشَةَ أَنَّ بَعْضَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِيْنَ عکرمہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ ایک ام المؤمنین اعتکاف بیٹھیں اور وہ استحاضہ سے بہار تھیں۔اعْتَكَفَتْ وَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ۔اطرافه: ۳۰۹، ۳۱۰، ۲۰۳۷ تشریح : اِعْتِكَافُ الْمُسْتَحَاضَةِ: اعتکاف کے منے تمام مشاغل سے فارغ البال ہو کر عبادت الہی میں مستغرق ہو جانا۔(النهاية في غريب الحديث والاثر تحت لفظ عكف) نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخیر دھا کے میں مسجد میں معتکف ہوا کرتے تھے۔مسائل اعتکاف بعد میں اپنے محل پر آئیں گے یہاں باب کا مقصد صرف یہ ہے کہ مستحاضہ اعتکاف بھی بیٹھ سکتی ہے۔اس کے لئے اسے مسجد میں لازمی طور پر رہنا پڑتا ہے۔غرض حالت استحاضہ اس کے لئے کسی قسم کی عبادت سے مانع نہیں ہوتی اور نہ مستحاضہ کے داخل ہونے سے مسجد نا پاک ہوتی ہے۔روایت نمبر ۳۰۹ میں بَعْضُ نِسَائِہ کا ترجمہ بجائے عورتوں کے بیویاں کیا گیا ہے۔لفظ نسائہ سے یہ شبہ پیدا ہوتا تھا کہ آپ کی رشتہ دار عورتوں میں سے کوئی عورت اعتکاف بیٹھی تھی۔جیسا کہ امام ابن جوزی کوروایت مذکورہ بالا کے الفاظ سے غلطی لگی ہے۔(فتح الباری جلد اول صفحہ ۵۳۳) امام بخاری نے بعد کی دوروایتوں سے اس شبہ کا ازالہ کر دیا ہے۔ایک میں یہ الفاظ ہیں امْرَأَةٌ مِّنْ اَزْوَاجِه اور دوسری میں بَعْضَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ یعنی آپ کے ساتھ اعتکاف بیٹھنے والی عورت آپ کی ایک بیوی تھی۔یہ سب روایتیں حضرت عائشہؓ سے مروی ہیں۔دوسری روایت کے الفاظ فَكَانَتْ تَرَى الدَّمَ وَالصُّفْرَةَ سے یہ شبہ پیدا ہوتا تھا کہ شاید یہ خون اعتکاف بیٹھنے کے بعد آیا ہو۔مگر دوسری روایتوں کے الفاظ وَهِيَ مُسْتَحَاضَة" اس شبہ کا بھی ازالہ کرتے ہیں۔یعنی وہ مستحاضہ ہوتیں اور باوجود اس کے اعتکاف بیٹھتیں۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جب بھی کسی روایت کا تکرار کریں گے تو وہ کسی نہ کسی خاص مقصد کو مد نظر رکھ کر کریں گے اور پھر ساتھ ہی اس روایت کی نئی سے نئی سند پیش کرتے ہوئے اسے اور بھی زیادہ صحیح ثابت کرتے جائیں گے۔شارحین نے یہاں یہ بحث اُٹھائی ہے کہ یہ کونسی بیوی تھی ؟ امام بخاری نے یہ بحث ادبا