صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 401
صحيح البخاری جلد | ۴۰۱ ٦ - كتاب الحيض تشریح : غَسْلُ دَمِ الْمَحِيضِ : باب دورکی پہلی روایت روايت كتاب الوضوء، باب غسل الدم میں بھی منقول ہے۔ دیکھئے روایت ۲۲۷۔ اس با ۲۱- اس باب میں امام بخاری نے دوسری روایت لاکر یہ اشکال رفع کر دیا ہے کہ حیض کا خون کب دھویا جائے ۔ عِنْدَ طُهْرِهَا یعنی حیض بند ہونے کے بعد مَحِيضہ یعنی حیض کا خاص کپڑا باندھنے کے باوجود کبھی قمیص یا از ار کو خون کا داغ لگ جاتا تھا۔ ورنہ ویسے یہ کپڑے صاف ستھرے ہوتے ، اس لیے آپ نے عورتوں کو اجازت دی کہ صرف وہی جگہ دھوئی جائے جہاں خون لگا ہے۔ بابو کی پہلی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کا اور دوسری روایت میں صحابیہ عورتوں کا اس ہدایت کے مطابق عمل درآمد کرنے کا ذکر ۔ کے نزدیک خون لگنا تو در کنار اگر کسی ا دوسرے شخص کا کپڑا اتفاق سے حائضہ ما ئضہ یا یا مستحاضہ مستحاضہ سے سے؟ چھو بھی جاتا تو وہ شخص مع اپنے کپڑوں کے ناپاک سمجھا جاتا تھا۔ (احبار: باب ۱۵ آیت ۱۹ ۲۴ تا ۲۷) الله باب ۱۰ : اعْتِكَافُ الْمُسْتَحَاضَةِ مستحاضہ کا اعتکاف بیٹھنا ہے۔ یہودیوں ۳۰۹: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنَا ۳۰۹ ہم سے اسحق نے بیان کیا، کہا: خالد بن خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عبد اللہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے خالد ( بن مہران ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ سے، خالد نے عکرمہ سے ، عکرمہ نے حضرت عائشہ اعْتَكَفَ مَعَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ وَهِيَ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مُسْتَحَاضَةٌ تَرَى الدَّمَ فَرُبَّمَا وَضَعَتِ ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کوئی اعتکاف بیٹھیں اور الطَّسْتَ تَحْتَهَا مِنَ الدَّمِ وَ زَعَمَ أَنَّ وہ استحاضہ سے بیمار تھیں۔ خون دیکھتیں بلکہ کبھی خون عَائِشَةَ رَأَتْ مَاءَ الْعُصْفُرِ فَقَالَتْ كَأَنَّ کی وجہ سے اپنے نیچے طشت رکھتیں۔ اور مکہ ۔ اور عکرمہ کا خیال هَذَا شَيْءٌ كَانَتْ فُلَانَةٌ تَجِدُهُ۔ ہے کہ عائشہ نے گسم * کا پانی دیکھا تو کہا: گویا کہ یہ اطرافه ۳۱۰، ۳۱۱، ۲۰۳۷۔ ☆ وہ چیز ہے جسے فلانی پایا کرتی تھی۔ ٣١٠: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ۳۱۰: ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: یزید بن زریع يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے خالد سے، خالد نے عد کسم ایک پھول کو کہتے ہیں جس سے گہرا سرخ رنگ نکلتا ہے جس سے کپڑے بھی رنگے جاتے ہیں۔ نیز حیض کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ( اردو لغت تحت لفظ کسم )