صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 398
صحيح البخاری جلد ) ۳۹۸ ٦ - كتاب الحيض جنبی کے متعلق حضرت ابن عباس کا فتویٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل درآمد پیش کیا گیا ہے۔ حضرت ام عطیہ کی روایت خود امام بخاری نے کتاب العيدين باب التكبير ايام منى و اذا غدا الى عرفة میں موصولاً بیان کی ہے۔ ہر قتل کے واقعہ کی طرف اشارہ کر کے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قل کو خط لکھ ہر قل کو خط لکھا اور اس میں قرآن مجید کی آیتیں تھیں۔ جب ایک کافر کے لئے جس کو معنوی ناپاکی کی وجہ سے نجس کہا گیا ہے، قرآن مجید کی آیتیں پڑھنی جائز تھیں تو ایک مسلمان عورت کے لئے بوجہ عارضی ناپاکی کے اس کا پڑھنا کیونکرنا جائز ہو سکتا ہے۔ مگر یہ استدلال علماء جمہور نے قبول نہیں کیا، بوجہ اس کے کہ اس خط میں اور باتیں بھی تھیں اور وہ ایسی کتاب کی طرح ہے جس میں قرآن مجید کی آیتیں بھی ہوں مگر اس کو قرآن مجید نہیں کہہ سکتے ۔ (جمہور کا یہ استدلال مفصل دیکھئے: بداية المجتهد۔ کتاب الغسل۔ الباب الثالث في أحكام هذين الحدثين أعنى الجنابة و الحيض۔ المسئلة الثالثة قرأة القرآن للجنب ) جمہور کی اس دلیل کو توڑنے کے لئے امام بخاری نے حضرت جابر کی روایت کا حوالہ دیا ہے جو کتاب الاحکام (کتاب التمني باب قول النبي الله لو استقبلت من أمرى ما استدبرت) میں مذکور ہے۔ اس میں وَلَا تُصَلِّی کہہ کر باقی تمام قسم کے ذکر الہی کی اجازت دی ہے جس میں تلاوت قرآن مجید بھی شامل ہے۔ اگر یہ نا جائز ہوتا تو آنحضرت ت صلی اللہ علیہ وسلم نماز وطواف کی طرح اس کو بھی مستثنی فرماتے ۔ رماتے ۔ ایسا ہی امام موصوف نے جنبی کے متعلق حکم بن عتیبہ کا فتوئی اور عمل درآمد پیش کیا ہے جو کوفہ کے فقیہ تھے۔ ذبح کرنے میں اللہ تعالیٰ کا نام لینا پڑتا ہے ورنہ وہ ذبیحہ حرام ہوگا امام ابن حجر رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ان تمام حوالوں سے یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ علماء جمہور کی وہ دلیل کمزور ہے جو حضرت علی کی روایت كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لَا يَحْجُبُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْئًي لَيْسَ الْجَنَابَةَ سے پکڑتے ہیں کیونکہ یہ روایت کمزور ہے اور اس کے مقابل پر حضرت عائشہ اور حضرت ام عطیہ اور حضرت جابر کی روایتیں اور حضرت ابن عباس وغیرہ کے اقوال قوی ہیں ۔ ( فتح الباری جلد اول صفحہ ۵۳۰) الله عنوان باب کے الفاظ وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ بھی امام ابن حجر کے خیال مذکور کی تائید کرتے ہیں۔ یہ روایت امام مسلم نے حضرت عائشہ سے موصولاً بیان کی ہے۔ مسلم ۔ كتاب الحيض۔ باب ذكر الله تعالى في حال الجنابة وغيرها) بَاب : الْإِسْتِحَاضَةُ استحاضہ کے بیان میں ٣٠٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۳۰۶: ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَتْ سے، ہشام نے اپنے باپ سے،ان کے باپ نے فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لِرَسُوْلِ اللَّهِ حضرت عائشہ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ ابو حنیش