صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 332 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 332

صحيح البخاری جلد ا ۳۳۲ ۴- كتاب الوضوء کیونکہ جو خیال سوتے وقت سر میں سما جاتا ہے وہ صحیفہ نفس پر گہرا نقش چھوڑتا ہے۔خصوصاً جب ہر روز اس ہدایت پر عمل درآمد ہوتا رہے۔غرض اسلامی وضو کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان اپنے ظاہر و باطن میں پاک وصاف ہو اور کامل طہارت اسے نصیب ہو۔امام بخاری یہ مقصد واضح کرنے کے لئے خاتمہ پر مذکورہ بالا حدیث لائے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر تم اس رات مر گئے تو تم فطرت پر مرو گے۔آپ نے اس سے یہ سمجھایا ہے کہ انسان کی فطرت پاک ہے اور باہر کے عارضی حالات اس کو مکدر کر دیتے ہیں۔جیسا کہ اس بارے میں آپ کا ارشاد نہایت واضح الفاظ میں آگے بھی آئے گا اور انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنی فطرت کو دعا سے اور دیگر وسائل سے پاک کرتا رہے اور اسلامی وضو بھی ایک ذریعہ ہے۔اس فطرت کے ظاہر و باطن کو پاک کرنے کا۔کیونکہ ظاہری پاکیزگی بھی اپنا اثر باطن پر کم و بیش ڈالتی ہے۔جیسے ظاہر کی گندگی نفس میں گندا اثر و گندا میلان پیدا کرتی ہے۔پس تمام ایسے مسائل جن سے فطرت کراہت کرتی ہو ؛ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا نتیجہ نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت براء بن عازب کی اصلاح کرنا کہ یوں نہ کہو: وَرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ بلکہ یوں کہو: وَ نَبِتكَ الَّذِی اَرْسَلْتَ۔یہ اس لئے کہ پہلے جملہ میں تکرار ہے۔رسول کے معنی وہ شخص جس کو اللہ نے بھیجا ہو۔اس صورت میں الفاظ الَّذِی اَرْسَلْتَ کی ضرورت نہ تھی اور وَنَيْكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ کا جملہ دو مقصد ادا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک تعلق باللہ بحیثیت نبوت کے اور آپ کا دوسرا تعلق بنی نوع انسان کے ساتھ بحیثیت رسالت کے۔دونوں تعلقات کو آپ نے کامل طور پر نبھایا ہے۔گندگی میں لتھڑی ہوئی انسانیت کو پاک وصاف کر کے اس کو اللہ تعالیٰ سے ملانے کا بیڑا آپ نے اُٹھایا تھا۔آپ کی رسالت کا یہی مقصد اعلیٰ ہے اور اس کے لئے پہلا مرحلہ جسم کی طہارت اور خیالات کی پاکیزگی تھا۔آپ نے اس مرحلے کی ایک منزل وضو قر ار دی ہے جو اپنے مقام میں ظاہری پاکیزگی بھی شامل رکھتا ہے اور باطنی پاکیزگی بھی اور اس بارے میں محمد رسول اللہ ﷺ کی خالص تعلیم اور آپ کے پاک نمونے کو مد نظر رکھ کر ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ نے رسالت کے اس حق کو پورے طور پر ادا کر دیا ہے۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ سے ارشاد فرمایا: يَا يُّهَا الْمُدَّثِرُ ، قُمْ فَانْذِرُه وَرَبَّكَ فَكَبَرُ ، وَثِيَابَكَ فَطَهَّرُه وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ 0 (المدثر : ۲ تا ۲) {اے کپڑا اوڑھنے والے! اُٹھ کھڑا ہو اور انتباہ کر اور اپنے رب ہی کی بڑائی بیان کر۔اور جہاں تک تیرے کپڑوں ( یعنی قریبی ساتھیوں) کا تعلق ہے، تو (انہیں) بہت پاک کر۔اور جہاں تک نا پا کی کا تعلق ہے تو اس سے کلیتہ الگ ره - } اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى سَيَّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ۔اور امام بخاری نے بھی اس کو ہم تک پہنچانے میں اپنا فرض خوبی سے ادا کیا ہے۔جَزَاهُ اللهُ عَنَّا أَحْسَنَ الْجَزَاءِ