صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 254 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 254

صحيح البخاري - جلد ا ۲۵۴ - كتاب الوضوء يَلْبَسُ النَّعْلَ الَّتِي لَيْسَ فِيْهَا شَعَرٌ رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ وہی جوتے * وَيَتَوَفَّا فِيْهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا پہنا کرتے کہ جن پر بال نہ ہوتے اور انہیں میں وضو وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ کیا کرتے تھے۔اس لئے میں انہیں کو پہننا پسند کرتا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا ہوں اور زردی جو ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ دیکھا کہ آپ اس سے رنگتے تھے اور میں بھی یہ پسند أُحِبُّ أَنْ أَصْبُعَ بِهَا وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي کرتا ہوں کہ اس سے رنگوں اور لبیک (جو میں لَمْ أَرَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آٹھویں تاریخ کو پکارتا ہوں ) تو اس لئے کہ میں نے يُهِلْ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ۔رسول اللہ ﷺ کو تا وقتیکہ آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر شریح اُٹھ نہ کھڑی ہوتی ، لبیک پکارتے نہیں دیکھا۔اطرافه ۱٥١٤، ۱۵۵۲، ١٦۰۹، ٢٨٦٥، ٥٨٥١۔غَسْلُ الرّجُلَيْنِ فِی النَّعَلَيْنِ : اس باب میں ضمناً ایک اختلافی مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔یعنی یہ کہ وہ جوتی جو سارے پاؤں کو نہ ڈھانپے جیسے چھیلی اور سلیپر ؛ آیا اس پر مسح جائز ہے یا نہیں۔موزے، جراب جو پاؤں کومخنوں یا ان کے اوپر تک چھپالیتے ہوں، ان پر سح کرنا جائز ہے۔فقہاء نے موزے اور جراب پر بوٹ وغیرہ کو قیاس کرنے کے متعلق اختلاف کیا ہے۔بعض نے اس قیاس کو جائز سمجھا ہے ( اس لیے ان کے نزدیک ایسے بوٹوں پر جو ٹخنوں یا اُن کے اوپر تک آتے ہوں مسح کرنا جائز ہے ) اور بعض نے نہیں۔ترمذی نے اس قیاس کو صحیح قرار دیا ہے۔مفصل دیکھئے بداية المجتهد كتاب الوضوء المسئلة الأولى في جواز المسح على الخفين)۔امام بخاری اور امام مسلم دونوں خاموش ہیں۔انہوں نے اس کے متعلق کوئی حدیث یا اپنی رائے بیان نہیں کی۔وَلَا يَمْسَحُ عَلَى النَّعْلَيْنِ : امام بخاری نے یہ کہہ کر اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جو حضرت علی اور دیگر صحابہ کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے وضو کرتے وقت اپنی جوتیوں پر مسح کیا اور پھر نماز پڑھی۔ابوداؤد وغیرہ نے یہ روایت مرفوعاً بیان کی ہے۔مگر عبدالرحمن مہدی اور ان کے ماسوا دیگر آئمہ اسے کمزور سمجھتے ہیں۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۵) التعَالُ السبيَّةُ : اس سے مراد وہ نرم جوتیاں ہیں جن کو دباغ کیا گیا ہو اور ان پر بال نہ ہوں۔يَتَوَضَّأُ فِيهَا : ان میں وضو کیا کرتے تھے۔یعنی پاؤں دھویا کرتے تھے۔اس سے مراد یہ ہے کہ ان جوتوں کو بہن کر پاؤں پر مسح نہیں کرتے تھے بلکہ انہیں دھوتے تھے۔انہی الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے امام بخاری نے باب مذکور کو قائم کیا ہے۔اس روایت کے باقی حصہ کی تشریح کتاب الحج میں دیکھئے۔امام موصوف اس باب میں صرف یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ شارع اسلام نے صفائی کا اس قدر خیال رکھا ہے کہ باوجود جوتی پہننے کے پاؤں دھوئے ہیں۔کیونکہ اس میں پاؤں کو زمین کی گردو غبار لگ جانے کا احتمال باقی رہتا ہے۔اصل مسئلہ مسیح فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ النعال ہے (فتح الباری جزء اول حاشیہ صفحہ ۳۵۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔