صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 242 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 242

صحيح البخاري - جلد ا ۲۴۲ ۴ - كتاب الوضوء تشريح : حَمْلُ الْعَنَزَةِ فِي الْإِسْتِجَاءِ: آنحضرت صلی الہ علیہ علم بوجہ جنگل میں جانے کے ام جانے کے احتیاطاً بر چھی رتے تھے۔ الْخَلاءِ کے معنی فضا ، کھلا افضا، کھلا میدان ، اس سے مراد جنگل جانا ہے۔ مسلم مسلمان سنت ساتھ لے جایا کرتے ۔ نبوئی سے بالکل غافل ہو گئے ہیں۔ برچھی چھوڑ سوٹی اُٹھانی ان کے لئے دو بھر ہے۔ امام ابن حجر لکھتے ہیں کہ سانپ درندے وغیرہ کے ضرر سے بچنے کے لئے آپ برچھی اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے۔ ( فتح الباری جزء اول صفحہ ۳۳۱) باب ۱۸: النَّهْيُ عَنِ الْإِسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِيْنِ دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے کی ممانعت ١٥٣ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ :۱۵۳: ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ ہشام دستوائی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے بھی يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بن ابی کثیر سے بچی نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، قَتَادَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ عبداللہ نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَرِبَ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ وَإِذَا میں سے میں سے کوئی پانی پئے تو برتن میں سان سانس نہ لے اور أَتَى الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ۔ اطرافه: ١٥٤، ٠٥٦٣٠ تشریح: جب بیت الخلاء میں آئے تو دائیں ہاتھ سے اپنی شرمگاہ نہ چھوئے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔ شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے طہارت اور پاک اور پاکیزگی کا ہر بات میں خیال رکھا ہے۔ اس باب میں دو (1) اور ادب سکھلائے گئے ہیں۔ اول دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کیا جائے ۔ دوم پیتے وقت برتن میں سانہ نہ لیا دوم پیتے وقت برتن میں جائے اور یہ دونوں حکم اپنی غرض وغایت میں واضح ہیں۔ حدیث نمبر ۱۵۴ میں بھی شرمگاہ کو دائیں ہاتھ سے چھونے کی ممانعت مذکور ہے۔ بَاب ۱۹ : لَا يُمْسِكُ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ إِذَا بَالَ جب پیشاب کرے تو اپنی شرمگاہ اپنے دائیں ہاتھ سے نہ پکڑے ١٥٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۱۵۴ ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحی بن ابی کثیر