صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 176
صحيح البخاري - جلد ا 124 ٣- كتاب العلم الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ کوئی عالم نہیں رہتا تو لوگ ایسے جاہلوں کو سردار بنا النَّاسُ رُؤُوْسًا جُهَّالًا فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا لیتے ہیں کہ جن سے اگر ( کوئی مسئلہ ) پوچھا جائے تو بِغَيْرِ عِلْمٍ فَصَلُّوْا وَأَضَلُّوْا۔بغیر علم کے فتویٰ دیتے ہیں۔خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔قَالَ الْفِرَبْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّاس قَالَ فربری کہتے تھے: حضرت عباس نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامٍ کیا۔کہا: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔کہا: جریر نے ہشام سے روایت کرتے ہوئے ہمیں اسی طرح نَحْوَهُ۔طرفه: ۷۳۰۷ تشریح: بتلایا۔كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ : اس باب میں اس خطر ناک مرض کی طرف توجہ دلائی ہے جو قدیم زمانہ سے علماء میں چلا آتا تھا اور وہ یہ کہ علماء علم کو بطور سر بستہ راز کے رکھتے تھے۔اب بھی ایک حد تک یہ مرض موجود ہے جو سینہ بسینہ چلا آتا ہے جس کا ازالہ اس زمانہ کی نشر و اشاعت نے بڑی حد تک کیا ہے۔یہ وبائی مرض علم کے لئے طاعون کی طرح مہلک ثابت ہوا ہے۔قرون مظلمہ میں اسلام نے اس کے برخلاف اونچی آواز سے صدا بلند کی جو پین میں جا کر سارے یورپ میں اس زور سے گونجھی کہ جہالت کے گھٹا ٹوپ بادل چھٹ گئے اور تاریک راتیں کافور ہوگئیں۔احادیث نبویہ کو جمع کرنے اور ان کو کتابی صورت میں محفوظ رکھنے کے لئے سب سے پہلے حضرت عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنی امیہ نے اہتمام کیا۔ان کے حکم سے سب سے پہلے جس نے احادیث کو لکھا؟ وہ ابن شہاب زہری ہیں۔جو امام مالک کے استاد تھے اور اس سے قبل یہ سلسلہ زبانی روایات تک محدود تھا۔اگر چہ ان کی خلافت کا زمانہ بہت تھوڑا تھا۔یعنی ؟؟ سے نام تک۔مگر آپ علم و تقویٰ کے اس اعلیٰ مقام پر تھے کہ پہلی صدی کے مجدد تسلیم کئے گئے ہیں۔آپ نے اس قلیل عرصہ میں قوم کے اندر ایک نئی زندگی کی روح پھونک دی تھی اور جذبات جو ذب چکے تھے وہ از سر نو اُبھار دیئے۔آپ نے اپنے عمال کو تدوین حدیث کے متعلق احکام بھیجے۔جن میں سے ایک ابن حزم انصاری بھی تھے۔یہ آپ کی طرف سے مدینہ منورہ کے قاضی تھے اور اعلیٰ پایہ کے فقیہ بھی تھے۔ابونعیم نے تاریخ اصبہان میں حضرت عمر بن عبد العزیز کے ان خطوط کا ذکر کیا ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۵۷) يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ: علم و جہالت اسی طرح ضد واقع ہوئے ہیں جیسے نور وظلمت۔آنحضرت نے یہ قاعدہ کلیہ کے طور پر فرمایا اور بتلایا ہے کہ علم فی نفسہ کوئی ایسی شئے نہیں ، جو خود بخود دنیا میں قائم رہے۔بلکہ علماء کے وجود کے ساتھ اس کا بقاء ہے اور کسی قوم کی آبادی یا بر بادی علماء کے موجود ہونے یا نہ ہونے کے ساتھ ہے۔اس میں علم 2 کے متعلق چھبیسواں ادب سکھلایا ہے کہ قوم کا فرض ہے کہ وہ علماء پیدا کرنے کی طرف خاص خیال رکھے۔