صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 148 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 148

صحيح البخاری جلد ا ۱۴۸ ٣- كتاب العلم ہے اور اس کے بعد ایسی آیت لا کر جس میں علم کا ذکر ہے۔ اس تصرف سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ علم سے مراد حقائق الاشیاء کا علم ہے اور یہ علم ایک نا پہ یہ علم ایک نا پیدا کنار سمندر ہے۔ چنانچہ سورہ کا چنانچہ سورہ کہف کے آخر میں یہی مضمون۔ ضمون ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي ۔ (الكهف : ١١٠) خضر کے متعلق بہت سے قصے مشہور ہیں جو بے بنیاد ہیں۔ ان کے متعلق یہ بھی خیال ہے کہ انہوں نے آب حیات پی لیا تھا اور وہ ہمیشہ کے لئے اس دنیا میں زندہ ہیں۔ دریا و سمندر میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ (ارشاد الساری جزء اول صفحہ ۱۷۳) یہ سب لغو کہانیاں ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس واقعہ کے متعلق فرمایا ہے:۔ میں سمجھتا ہوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اعلیٰ کے دکھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کشف دکھایا اور اس کشف کا خضر میرا محمد ہی ہے جس کے ساتھ چلنے کی موسیٰ علیہ السلام کو طاقت نہ تھی ۔ اللهم صل على محمد وعلى آل محمد و بارک وسلم إنك حميد مجيد ۔ ( تفسير كبير ، سورة ) سورۃ الکہف آیت نمبر ۲۱ ، جلد چہارم ، صفحہ ۴۷۰) اس واقعہ کی مزید تفصیل کے لیے تفسیر کبیر - تفسیر سورۃ الکہف آیات ۶۱ تا ۸۳ ، جلد چہارم ، صفحہ ۴۶۵ تا ۴۹۰ دیکھئے۔ باب ۱۷ : قَوْلُ النَّبِيِّ عَ اللَّهُمَّ عَلَّمْهُ الْكِتَابَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: اے اللہ ! اس کو کتاب کا علم دے ٧٥: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۷۵ ہم سے ابو معمر نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ کہ عبدالوارث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: خالد عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ضَمَّنِي نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مکرمہ سے، مکرمہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گلے لگایا اور اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ ۔ اطرافه ١٤٣، ٣٧٥٦، ٧٢٧٠۔ T: فرمایا: اے اللہ ! اسے کتاب کا علم دے۔ تشريح : اللَّهُمَّ عَلِّمُهُ الْكِتَابَ : آخر على الهلال وسلم اسوة حسنة رت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کر کے چودھواں ادب علم کے متعلق یہ بتلایا کہ تحصیل علم کے لئے بچپن ۔ ن سے ہی اہتمام ہو۔ بچوں کے واسطے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو علم کی نعمت عطا کرے۔ کرے۔ امام ابن حجر نے اس ضمن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعائیہ الفاظ کے متعلق مختلف روایات بیان کی ہیں۔ اَللَّهُمَّ عَلِّمُهُ الحِكْمَةَ وَتَأْوِيلَ الْكِتَابِ اللَّهُمَّ فَقَهُهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمُهُ التَّأْوِيلَ ۔ ( فتح الباری جزء اول صفحه ۲۲۴) تاویل سے مراد بھی بیان حقیقت ہے۔ خود امام بخاری کی روایات میں بھی یہ دعا یہ اقتباس پہلے ایڈیشن میں نہیں تھا۔ نظر ثانی کے وقت شامل کیا گیا ہے۔