صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 148
صحيح البخاري - جلد ا ۱۴۸ ٣- كتاب العلم ہے اور اس کے بعد ایسی آیت لا کر جس میں علم کا ذکر ہے۔اس تصرف سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ علم سے مراد حقائق الاشیاء کا علم ہے اور یہ علم ایک نا پیدا کنار سمندر ہے۔چنانچہ سورہ کہف کے آخر میں یہی مضمون ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمْتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي۔(الكهف:۱۱۰) خضر کے متعلق بہت سے قصے مشہور ہیں جو بے بنیاد ہیں۔ان کے متعلق یہ بھی خیال ہے کہ انہوں نے آب حیات پی لیا تھا اور وہ ہمیشہ کے لئے اس دنیا میں زندہ ہیں۔دریا و سمندر میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔(ارشاد الساری جزء اول صفحه ۱۷۳) یہ سب لغو کہانیاں ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس واقعہ کے متعلق فرمایا ہے:- میں سمجھتا ہوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اعلیٰ کے دکھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کشف دکھایا اور اس کشف کا خضر میرا محمد ہی ہے جس کے ساتھ چلنے کی موسیٰ علیہ السلام کو طاقت نہ تھی۔اللهم صل على محمد وعلى آل محمد و بارک وسلم انک حمید مجید۔تغیر کبیر، سورۃ الکہف آیت نمبر ۶۱ ، جلد چہارم، صفحه ۴۷۰) اس واقعہ کی مزید تفصیل کے لیے تفسیر کبیر - تفسیر سورۃ الکہف آیات ۶۱ تا ۸۳، جلد چہارم، صفحہ ۴۶۵ تا۴۹۰ دیکھئے۔باب ۱۷ : قَوْلُ النَّبِي عَ اللَّهُمَّ عَلَّمْهُ الْكِتَابَ صلى الله نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: اے اللہ ! اس کو کتاب کا علم دے ٧٥ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۷۵ ہم سے ابو معمر نے بیان کیا۔انہوں نے کہا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ کہ عبد الوارث نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے کہا: خالد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے عکرمہ سے عکرمہ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ضَمَّنِي نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ انہوں نے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گلے لگایا اور اللَّهُمَّ عَلّمْهُ الْكِتَابَ۔تشریح فرمایا: اے اللہ ! اسے کتاب کا علم دے۔اطرافه ١٤٣، ٣٧٥٦، ٧٢٧٠۔اللّهُمَّ عَلَمُهُ الْكِتَابَ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کر کے چودھواں ادب علم سے متعلق یہ بتایا کہ تحصیل علم کے لئے بچپن سے ہی اہتمام ہو۔بچوں کے واسطے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو علم کی نعمت عطا کرے۔امام ابن حجر نے اس ضمن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعائیہ الفاظ کے متعلق مختلف روایات بیان کی ہیں۔اَللَّهُمَّ عَلمُ الحِكْمَةَ وَتَأْوِيلَ الْكِتَابِ اللَّهُمَّ فَقَهُهُ فِي الدِّينِ وَعَلِمُهُ التأويل۔( فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۲۴) تاویل سے مراد بھی بیان حقیقت ہے۔خود امام بخاری کی روایات میں بھی یہ دعا یہ اقتباس پہلے ایڈیشن میں نہیں تھا۔نظر ثانی کے وقت شامل کیا گیا ہے۔