صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 111 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 111

حيح ری جلدا ٢ - كتاب الإيمان ہے اور ایسا ہی ہر عمل کو بھی۔ایمان باللہ میں بھی اور وضو وغیرہ میں بھی جو حض دینی کام ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی مقصود ہونی چاہیے اور بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنے میں بھی رضاء الہی مقصود ہو۔یہی دراصل ایمان اور اسلام کا حقیقی مغز وخلاصہ ہے۔یعنی اپنے لئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہر کام ہو۔حسبة کے معنی رضاء الہی کی خاطر۔یہ قول کہ نیکی کو نیکی کی خاطر کرنا چاہیے نفس کا ایک خطر ناک دھوکہ ہے۔یہ صرف خوبصورت الفاظ ہیں، جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اگر دنیا میں اس کا کوئی وجود ہوگا تو اُن بے جان چیزوں میں ہوگا، جن سے بغیر اُن کے اپنے ارادے کے بھلے افعال صادر ہو رہے ہیں۔مگر بالا رادہ کام کرنے والی ہستیوں کے ہر ایک عمل کی کوئی نہ کوئی جہت حرکت ضرور ہوتی ہے، جس کی طرف اس عمل کا رُخ ہوتا ہے۔وَلِكُلّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيهَا (البقرة :۱۴۹) اور ہر ایک کے لیے ایک مطمح نظر ہے جس کی طرف وہ منہ پھیرتا ہے۔اس جہت حرکت کو نیت کہتے ہیں اور انسان کے ہر عمل کا رُخ رضاء الہی کی طرف ہونا چاہیے۔یہ ہے کمال نیکی کا۔ورنہ نیکی کی خاطر نیکی کرنا ایک ایسا ہی مبہم مفہوم ہے جس طرح خود نیکی کا مفہوم انسانی شہوات و اغراض و مفاد وملاحظات کے اختلاف اور ان کی آپس کی کشمکش اور پیچیدگیوں میں مہم ہو جاتا ہے اور یہ ابہام ایسا ہوتا ہے کہ خود انسان کو بھی اس کے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے پتہ نہیں ہوتا کہ آیا وہ نیکی کر رہا ہے یا بدی۔اس لئے اس بے معنی اصل کو یعنی نیکی کو نیکی کی خاطر کر رکرنا چاہیے، قبلہ اعمال بنانا انسان کو بڑے خطرے میں ڈالتا ہے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے قُلْ كُلَّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمُ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اهدای سَبِیلا (بنی اسرائیل: ۸۵) کی آیت پیش کر کے اس نکتہ جلیلہ کی طرف اشارہ کیا ہے اور ایمان باللہ میں بھی رضاء الہی کی ہی نیت رکھنے کی تلقین کی ہے۔نیت کے متعلق مفصل بحث کتاب بدء الوحی حدیث نمبرا کی تشریح میں ملاحظہ ہو۔نَفْقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا صَدَقَةٌ : برعمل بوجہ نیک نیت کے صدقہ کہلاتا ہے۔صدق کے معنی سچائی اور پائیداری اور ظاہر و باطن کا ایک ہونا۔وہی عمل جو رضائے الہی پر بنی ہو سچا اور پائدار ہوتا ہے نہ کہ نیکی کے لئے نیکی کرنا۔وَلَكِن جِهَادٌ ونِيَّة: جو باب مذکور میں ہے۔یہ حضرت ابن عباس کی حدیث کا ایک ٹکڑا ہے جو کتاب الجہاد میں آئے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی خواہش رکھنے والے کو جواب دیا: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَّنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتَنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا۔یعنی شر و فساد کو مٹانا۔اصلاح نفس اور اصلاح بنی نوع انسان کے لئے کوشش کرنا نیز ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی نیت رکھنا یہ کام ہجرت کے قائم مقام ہیں۔(بخارى۔كتاب الجهاد۔باب فضل الجهاد والسير۔روایت نمبر ۲۷۸۳ - نیز باب وجوب النفير۔روایت نمبر ۲۸۲۵)