صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 104 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 104

صحيح ری جلد ا وام ۱۰ ٢ - كتاب الإيمان ، عَلَى إِبْرَاهِيمَ۔۔۔۔وَ نَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا۔(آل عمران: ۸۵-۸۲) اس آیت میں ایمان باللہ وایمان بالرسل کو اسلام قرار دیا ہے۔عبدالقیس کے واقعہ نیز اس آیت کو پہلو بہ پہلو پیش کر کے اس سے یہ سمجھایا ہے کہ اعتقادات کو اعمال کے ساتھ اتنا شدید تعلق ہے کہ ایمان کو اسلام اور اسلام کو ایمان کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔غرض یہ باب خلاصہ ہے کتاب الایمان کا۔رُعَاةُ الْإِبِلِ الْبُهم: بهم جمع ہے ابھم کی یعنی سیاہ۔سیاہ اونٹ بدترین قسم سمجھی جاتی ہے بمقابل حُمُرُ النَّعم یعنی سرخ اونٹوں کے۔سیاہ اونٹوں سے مراد مجہول النسب ، جاہل، بداخلاق اور اجڈ لوگ ہیں۔( فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۶۳) اسی کتاب میں اشراط الساعۃ کے متعلق جہالت کا پھیل جاتا، زنا، شراب خوری کی کثرت اور مار دھاڑ وغیرہ علامات مذکور ہیں۔یہاں اس تباہی کی طرف اشارہ ہے جس سے بنی عباس تباہ ہوئے۔اسی تباہی کی طرف ابراہیم جونی نے اشارہ کیا ہے۔جس کو امام ابن حجر نے بھی بایں الفاظ نقل کیا : الرَّؤُ سَاءُ فِي الصَّدْرِ الْأَوَّلِ كَانُوا يَسْتَنْكِفُوْنَ غَالِبًا مِنْ وَّطَيْ الْإِمَاءِ وَيَتَنَافَسُونَ فِى الْحَرَائِرِ ثُمَّ انْعَكَسَ الأَمْرُ وَلَا سِيَمَا فِي اثْنَاءِ دَوْلَةِ بَنِي الْعَبَّاسِ۔(فتح البارى جزء اول صفحه ۱۶۲) یعنی اسلام کے ابتدائی زمانہ میں بڑے بڑے لوگ لونڈیوں سے نکاح کرنا نا پسند کرتے تھے۔مگر اس کے بعد معاملہ برعکس ہو گیا۔خاص کر بنی عباس کے زمانہ میں ان کی تباہی کے اہم اسباب میں سے لونڈیوں سے شادیاں کرنا بھی ایک بڑا سبب تھا۔هذَا جِبْرِيلُ جَاءَ يُعَلِّمُ النَّاسَ : جبرائیلی تھی کا یہ اک حیرت انگیز نظارہ ہے۔اگر اپنے نفس ک تھوڑا سا مطالعہ کیا جائے تو یہ روحانی کیفیت کسی قدر سمجھ میں آسکتی ہے۔انسان غیر شخص کی ذہنیت کو اپنی ذہنیت کے زیر تصرف لاسکتا ہے۔اسی اصل پر علم ترب و علم تنویم وغیرہ کی بنیاد ہے۔بلکہ بعض اوقات تو بغیر اپنے ارادے کے اس کے خیالات کی رو دوسرے کے ذہن میں مخفی طریق سے سرایت کر کے زور سے اپنا کام کرنا شروع کر دیتی ہے۔جیسا کہ اپنے ہم نشینوں میں اس کا اکثر تجربہ ہوتارہتا ہے۔روحانی تجلیات میں بھی اس قسم کی کیفیات کا تجربہ و مشاہدہ اہل اللہ کو ہوتارہا ہے اور اس میں کبھی دوسرے لوگ بھی شریک ہو جاتے ہیں۔یعنی کشف یا وحی کی حالت جو ایک شخص پر طاری ہوتی ہے۔دوسرا شخص بھی اس سے متاثر ہو جاتا ہے اور بالکل وہی نظارہ دیکھتا یا کیفیت محسوس کرتا ہے جو خود صاحب وحی و کشف دیکھتا یا محسوس کرتا ہے۔اس واقعہ میں بھی یہی ہوا ہے۔إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ : مذکورہ بالا آیت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے محض جبرائیلی تجلی کے ماتحت صادر ہوئی نہ کسی اپنے ارادے سے اور اس واقعہ کا آخری حصہ علم غیب پر مشتمل ہے۔یعنی یہ کہ عرب لوگ اپنی بداعمالی سے تباہ ہوں گے۔زبانی اسلام ان کو کام نہ دے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب ان کے امور سلطنت میں غلاموں کا دخل ہو جائے گا اور بجائے آزاد عورتوں سے شادی کرنے کے وہ لوگ لونڈیوں سے شادی کریں گے اور دنیا میں منہمک ہوں گے اور بڑی بڑی عمارتیں بنائیں گے۔یہ سب پیشگوئیاں تھیں جو پوری ہوئیں۔اس سے جبرائیلی تجلی کی حقانیت و عظمت کا پتہ چلتا ہے۔یہ سارا واقعہ کامل بیداری کے عالم میں ہوا اور آپ کو اس وقت محسوس ہورہا تھا کہ یہ وحی کی