صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 103 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 103

صحيح البخاري - جلد ا ١٠٣ ٢ - كتاب الإيمان رہا ہو۔آپ نے ایمان و اعمال میں احسان کی یہ ایک مثال بیان فرمائی ہے اور یہ اس آیت کی طرف اشارہ ہے: بلی مَنُ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ (البقرہ:۱۱۳) { ترجمہ نہیں نہیں، سچ یہ ہے کہ جو بھی اپنا آپ خدا کے سپر د کر دے اور وہ احسان کرنے والا ہو اور نیز اس آیت کی طرف وَمَنْ يُسْلِمُ وَجْهَهُ إِلى اللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى وَإِلى اللهِ عَاقِبَةُ الْأمُورِ۔(لقمان:۲۳) { ترجمہ: اور جو بھی اپنی تمام تو جہات اللہ کو سونپ دے اور وہ احسان کرنے والا ہو تو اس نے یقیناً ایک مضبوط کڑے کو پکڑ لیا اور تمام امور انجام کا اللہ ہی کی طرف ( کو ٹتے ) ہیں۔} فَجَعَلَ ذلِكَ كُلَّهُ دِینًا : یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان و اسلام اور اس احسان کو دین قرار دیا جو در حقیقت انسان کے لئے نجات کا باعث ہے۔مَتَى السَّاعَةُ: مَتَى السَّاعَةُ سے وہ گھڑی مراد ہے۔جس میں ایک قوم اپنی بداعتقادی اور بدعملی کی وجہ سے تباہ ہو جاتی ہے۔قیامت کبری مراد نہیں ، جس کا تعلق ہر فرد بشر کے ساتھ ہے۔دُعَاةُ الْإِبِلِ الْبُھم کہ کر عربوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وقت کی تعین نہیں فرمائی لیکن علامتیں بتلادی ہیں۔لونڈی کا اپنے مالک کو جننے سے یہ مراد ہے کہ مسلمانوں کے حرم سرا لونڈیوں سے بھرے ہوں گے اور وہ شہوات کے پیچھے پڑ جائیں گے اور اونچی اونچی خوبصورت سے خوبصورت عمارتیں بنائیں گے۔یعنی دنیا کی آبادی میں منہمک ہو جائیں گے۔یہ دو قرینے ہیں اس بات پر کہ ساعت سے مراد دنیا کا عذاب ہے جو بد اعمال قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔خواہ وہ اسلام کی دعویدار ہی کیوں نہ ہو۔جو آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی ہے، اس میں دنیا کے عذاب سے آگاہ کیا گیا ہے: يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِى وَالِدٌ عَنْ وَلَدِهِ۔۔۔إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ (لقمان:۳۴- ۳۵) ترجمہ: اے انسانو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو اور اس دن سے ڈرو جس دن نہ باپ اپنے بیٹے کے کام آئے گا نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آئے گا۔یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے۔پس تمہیں دنیا کی زندگی ہرگز دھو کہ میں نہ ڈالے اور تمہیں اللہ کے بارہ میں دھوکہ باز (شیطان) ہرگز دھوکہ نہ دے سکے۔یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے۔۔۔امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس سے یہی مراد لی ہے اور اسے ثابت کرنے کے لئے حدیث مذکور کے ہم معنی دوسری روایات کو بھی نقل کیا ہے۔مثلاً لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ اَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعَ إِذَا وُسِدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرُوا السَّاعَةَ۔(فتح الباری جزء اول صفحه ۱۶۴) یعنی جب حکومت نا اہل لوگوں کے سپرد کی جائے گی اور کمینے اور او باش لوگ دنیا کے عیش وعشرت سے محظوظ ہوں گے تو اس وقت اس گھڑی کا انتظار کرو۔امام بخاری علیہ الرحمۃ نے عنوان باب میں ایک تو جبرائیل کے واقعہ کا حوالہ دے کر ایمان و اسلام واحسان کے تین اہم اجزاء کی طرف توجہ دلائی ہے اور دوسرے وفد عبد القیس کے واقعہ کی طرف متوجہ کیا ہے۔( حدیث نمبر ۵۳) اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مَا الْإِيْمَانُ بِاللَّهِ کی تشریح فرماتے ہوئے صلوۃ ، زکوۃ عصوم کو بھی ایمان ہی میں شامل کیا ہے۔بوجہ اس شدید تعلق کے جو ایمان کو اعمال کے ساتھ ہے اور پھر آخر میں وَمَنْ يُبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْہ کی آیت لائے ہیں تا اصل مقصد واضح ہو۔یہ آیت یوں شروع ہوتی ہے: قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا وَمَا