صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 100
حيح ری جلد ا ٢ - كتاب الإيمان جھگڑے کو کفر قرار دیا ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۴۹-۱۵۰، عمدۃ القاری جزء اول صفحه ۲۷۸) فسق کے معنی اطاعت الہی سے نکل جانا۔گناہ چھوٹا ہو یا بڑا اطاعت الہی سے نکلنے کا نام ہے اور بوجہ جہالت کا نتیجہ ہونے کے ایک قسم کا کفر بھی ہے۔یہاں مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا اس لئے کفر قرار دیا گیا ہے کہ تا ان دو گناہوں کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۵۰) اس حدیث سے مرجۂ اگر یہ استدلال کریں کہ کسی مسلمان کے ایمان پر حملہ کرنا بھی ایک گالی ہے۔اس لئے ان کے نزدیک کسی کلمہ گو کو کافر کہنا جائز نہیں۔خواہ وہ کتنا ہی کسی بد عقیدہ یا بدعملی میں مبتلا ہو۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب اصولی سوال در پیش ہوگا تو ہم اس کے مطابق اصولی فتوی دیں گے اور جو شخص فروعات میں سے کسی کفر کا مرتکب ہوگا تو اس کو فروعی کفر پر محمول کریں گے۔یہ ایک نسبتی امر ہے۔كُفْرٌ دُونَ كُفر۔مثلاً اہل کتاب اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت موسیٰ وغیرہ انبیاء کی نبوت کو مانتے تھے۔مگر قرآن مجید نے ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے انکار کرنے پر کافر قرار دیا ہے۔ایسا ہی مومنین یہود کو حضرت عیسی علیہ السلام کے انکار سے کا فرقرار دیا گیا ہے۔ایسا ہی حضرت لوط کی قوم نے حضرت لوط علیہ السلام کا انکار کیا۔ان کے متعلق فرمایا : كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ الْمُرْسَلِينَ (الشعراء: ۱۲۱) حضرت لوط کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلا دیا۔ایمان بالرسالت ایک اصولی عقیدہ ہے جو شخص رسالت کا منکر ہوگا وہ اصولی طور پر علی الاطلاق کفر کے فتویٰ کے نیچے آئے گا۔اس کفر کے علاوہ اور چھوٹے بڑے کفر ہیں تو ہر ایک کی نسبت سے کفر کا فتویٰ اس پر چسپاں ہوگا۔مثلاً عورتوں کے متعلق فرمایا: يَكْفُرُنَ الْعَشِيرَ۔اب یہ کہنا کہ اگر کسی میں فلاں نوعیت کا کفر پایا جائے تو یہ نہ کہو کہ وہ اس کفر کا مرتکب ہوا ہے اور اس کے ایمان و اسلام میں کوئی نقص نہ سمجھو۔یہ امر خلاف واقعہ اور غیر معقول اور حقیقت سے عمداً آنکھیں بند کرنا ہے۔خارجی لوگ جو ہر بدی پر کافر اور خارج از اسلام قرار دیتے ہیں۔وہ بھی اس حدیث سے استدلال نہیں کر سکتے۔گالی دینا بے شک اطاعت الہی سے نکل جانا ہے اور مسلمان سے لڑنا بھی ایک کفر ہے۔مگر اسی حد تک کہ جہاں اس فسق و کفر کا ان دو عملوں کے ساتھ تعلق ہے نہ کہ انسان کے سارے اعمال و اعتقادات کے ساتھ۔مرجیہ تفریط کی طرف جاتے ہیں اور خارجی افراط کی طرف اور حد اوسط یہ ہے کہ اصولی اعتقاد کے انکار سے انسان من حیث الاطلاق کا فر ہوگا اور کفر کی کسی ایک شق کے پائے جانے کی وجہ سے اس حد تک کفر کا مرتکب ہوگا۔اس صحیح اصل کو امام بخاری نے كُفْرٌ دُونَ كُفْرِ کے الفاظ میں واضح کر دیا ہے۔نیز اس باب میں اس قسم کے اعتقادی تساہل کے بدنتائج کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ اس سے انسان اپنے اعمال کے متعلق نڈر ہو جاتا ہے۔حالانکہ ایک چھوٹی سے بد اعتقادی اور بد عملی بھی انسان کو بڑی بڑی رحمتوں سے محروم کر دیتی ہے۔فَرُفِعَتْ سے مراد بھلایا جاتا ہے۔عَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَّكُمْ یعنی یہ میرا بھول جانا امید ہے کہ تمہارے لئے بہتر ہو۔یہ اس دائی جدو جہد کی طرف اشارہ ہے جولیلۃ القدر کی تلاش میں کرنی پڑتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ یہی ہمیشہ کی جدو جہد اور جستجو امت کے لئے خیر و برکت کا موجب ہو۔