صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 99 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 99

صحيح البخاري - جلد ا ۹۹ ٢ - كتاب الإيمان میں نفاق کی آمیزش نہ ہو جس سے ان کا نفس مکدر ہو جائے۔ مومن کو ہمیشہ اپنے نقائص کا احساس رہتا ہے اور یہ مبارک احساس ان کی ترقی کا موجب ہوتا ہے۔ یہ مفہوم ہے ان الفاظ کا مَا خَافَهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا آمِنَهُ إِلَّا مُنَافِقٌ - " : " کی ضمیر نفاق کی طرف جاتی ہے۔ یعنی نفاق سے مومن خائف رہتا ہے اور منافق نڈر ہوتا ہے۔ ابن ابی خیثمہ اور محمد بن نصر مروزی اور ا اور ابوزرعہ دمشقی نے ان تمیں صحابہ کا ن تھیں صحابہ کا مفصل ذکر کیا ہے۔ ان میں حضرت عائشہ اور حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابن مسعود اور حضرت اسماء بنت ابی بکر اور حمص اور حضرت ابو ہریرہ بھی ہیں۔ (فتح الباری جزءا ری جزء اول صفحہ ۱۴۹) اس تعداد کے ذکر کرنے سے اجماع صحابہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مَا مِنْهُمْ أَحَدٌ يَقُولُ إِنَّهُ عَلَى إِيْمَانِ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ: جبرائیل اور میکائیل کے ایمان کی طرف اشارہ کرنے سے مراد کامل ایمان ہے اور یہ مبارک احساس کہ وہ ابھی کمال کو نہیں پہنچے، ان کے اندر ترقی کی خواہش و جد و جہد ہر کو کو زنده زندہ رکھتا را تھا۔ وَلَمْ يَصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ ۔ (ال عمران : ۱۳۶) یعنی اپنے نقص کو معلوم کر کے وہ اپنی اصلاح کرتے ، غلطی پر آڑے نہ رہتے ۔ امام موصوف نے آیت مذکورہ بالا سے اپنا مقصد واضح کر دیا ہے کہ خوف سے مراد کیا ہے۔ یہ کہ وہ اپنے ایمان کو نقص سے پاک رکھنے کے لئے ہر احتیاط سے کام لیتے تھے۔ وَمَا يُحْذَرُ مِنَ الْإِصْرَارِ عَلَى التَّقَاتُلِ وَالْعِصْيَانِ: میں ” تَقَاتُل “ کا خصوصیت سے ذکر کر کے ضمنا یہ اشارہ بھی کر دیا ہے کہ غلطی کا علم ہونے۔ ہونے کے بعد آپس میں تفرقہ اور لڑائی جھگڑا جاری رکھنا امت کے لئے کبھی مبارک نہیں ہو سکتا۔ عنوان باب میں بھی اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ بے خبری میں بھی انسان کا عمل ضائع ہو جاتا ہے اور وہ رحمت الہی سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں جو دوسری حدیث لائے ہیں۔ اس سے بھی یہی بتلانا مقصود ہے کہ جب آپس کی معمولی لڑائی کے سبب ليلة القدر جیسی عظیم الشان نعمت سے ساری امت محروم ہو گئی تو یہ اعتقادی تفرقہ جو مرجئہ وغیرہ نے پیدا کر دیا ہے، اپنے ساتھ نتیجہ میں کیا کچھ نحوستیں نہ رکھتا ہوگا ۔ مومن ساز لوگ ذرہ یہاں بھی ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ سارے جہان کو مومن ثابت کرنے کے شوق بیجا نے ان کے ہم جنسوں کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقَ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس جگہ بڑی احتیاط سے کام لیا ہے۔ مرجنہ کے متعلق ذکر کرتے ہوئے ابو وائل کا قول نقل کیا ہے اور ابوداؤ د طیالسی نے ابو وائل کی یہ روایت یوں نقل کی ہے کہ شعبہ نے زبید سے روایت کی کہ جب مرجئہ کا فرقہ پیدا ہوا تو میں ابو وائل کے پاس آیا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے پر جواب دیا۔ (مسند ابو داؤد الطيالسي ما اسند عبد الله بن مسعود ۔ الجزء الاول ۔ روایت نمبر ۲۴۸) ابو وائل: ھ کے قریب فوت ہوئے۔ اس وقت یہ فتنہ پیدا ہو چکا تھا۔ ابو وائل تابعی تھے۔ انہوں نے زمانہ نبوی پایا تھا۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی لیکن صحابہؓ سے ملے ہیں اور ان کے علم و تقوی و زہد اور عظمت کے متعلق سب کو اتفاق ہے۔ انہوں نے زبید کو جو جواب دیا ہے، اس سے مرجئہ کا رد کرنا مقصود ہے۔ یعنی ان کا یہ اعتقاد غلط ہے کہ عملی نقص ایمان کو نقصان نہیں دے سکتا ۔ حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گالی گلوچ کو فسق اور لڑائی