صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 93
صحيح البخاری جلد ا ۹۳ ٢ - كتاب الإيمان ہوا اور یہ محبت محض اللہ تعالیٰ کے لئے ہو ( حدیث نمبر ۶ ) بد اعتقادی اور بدی سے نفرت ہو ( حدیث نمبر ۲۲) اور انسان اپنے ایمان میں ایسے مقام پر ہو کہ اپنی موجودہ حالت کو ناقص سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور مغفرت اور تزکیہ نفس اور ترقی درجات کی ہمیشہ آرزو کرتا رہے ( حدیث نمبر ۴۴) اور اپنے دین کو ہر فتنہ سے محفوظ رکھنے کے لئے کوشاں ہو (حدیث نمبر (۱۹) اور اس کا ایمان صرف ذہنی تصورات تک ہی محدود نہ ہو بلکہ جذبات میں تبدیل ہو کر حلاوت کا مزہ دیتا ہو ( حدیث نمبر ۱۶) اور اعمال میں نہ ظاہر داری ہو اور نہ ان میں تکلف محسوس کرے بلکہ لذت پائے (حدیث نمبر (۱۸) اور ان کے بجالانے میں مستعدی و نشاط ہو اور اپنی خواہش کا دخل نہ ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی خوشنودی اس کے ایمان کا خمیر ہو ( روایت نمبر ۳۹ ۴۰) اور محبت و ذوق و شوق اس کی روح رواں ہو۔یہ وہ ایمان و اسلام ہے جو الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِينًا (المائده : ۴) کا مصداق ہے اور جو اپنوں کے لئے مایہ ناز اور غیروں کے لئے جائے رشک۔نہ وہ ایمان جو ذرہ کے برابر سب دلوں میں ہے (حدیث نمبر ۴۳ ۴۴ ) اور جو جہنم کی سزا سے بچانے والا نہیں ، جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے مومن اور لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کہنے والے بھی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ سلام کے کامل مفہوم کو واضح کرنے کے لئے دوحدیثیں یکے بعد دیگرے مین مناسبت کی وجہ سے لائے ہیں۔ورنہ یہ ذرہ برابر اور گندم والا ایمان تو وہ نہیں جو یہودیوں کے رشک کا باعث بنا۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی اس جدو جہد کے باوجود بعض مومن ساز لوگ آج کل بھی سارے جہان کو مسلمان بنانے کی کوشش میں ہیں اور وہ ان مرجئہ کی طرح ہیں جو اپنے غائیہ کمالیہ کو تحت الثری میں لا کر ایمان کی قیمت کا لعدم کرنا چاہتے ہیں۔کاش! ایسے لوگ امام ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب فتح الباری کا یہ فقرہ بھی غور سے پڑھ لیتے : إِنَّهُ أَعَادَهُمَا لِيُوْطِئَ بِهِمَا مَعْنَى الْكَمَالِ الْمَذْكُورِ فِي الْآيَةِ الثَّالِثَةِ لَانَّ الْإِسْتِدَلَالَ بِهِمَا نَضٌ فِى الزِيَادَةِ۔فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۳۹) یعنی ان آیتوں سے جو یہاں دہرائی گئی ہیں۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد ایمان کا کمال ظاہر کرنا ہے۔یہ مومن ساز لوگ کم از کم اتنی دیانتداری کا اظہار تو کر دیتے ہیں کہ امام بخاری رحمتہ اللہ عیہ کا اس باب کے لانے سے اصل منشاء کیا ہے اور نفس مضمون کے ساتھ اس کا کیا تعلق۔اور اگر ذرہ عقل سے کام لیں تو اسی آیت میں دین کے کامل ہونے کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ ثمرات بھی کامل ہیں۔اتمام نعمت کی تفصیل سورہ نساء آیت نمبر ے میں ملاحظہ ہو۔قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ : حضرت عمر نے یہودی کو عمدہ جواب دیا ہے کہ یہ آیت ایسے وقت میں نازل ہوئی تھی جب دو عیدیں جمع ہو گئیں تھی۔عرفہ کا دن تھا جس کی رات عید کی رات ہوتی ہے۔اس دن جمعہ بھی تھاجو مسلمانوں کی عید ہے۔یعنی مشیت الہی ہی نے اس دن کو ہمارے لئے عید بنا دیا تھا۔طبری و طبرانی وغیرہ نے رجاء بن ابی سلمہ کی روایت نقل کی ہے کہ یہ یہودی کعب الاحبار تھے جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۱۴۱)