صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 90 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 90

صحيح البخاری جلد ا ٢ - كتاب الإيمان إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَكُلُّ سَيِّئَةٍ جو وہ کرے گا اس کے لئے دس گنا سے سات سو گنا تک لکھی جائے گی اور ہر بدی جو وہ کرے گا اس کے لئے اتنی ہی لکھی جائے گی۔يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا۔حَسُنَ اِسْلَامُهُ : حَسُنَ إِسْلَامُهُ سے یہی مراد ہے کہ اعمال میں اپنی خواہشات کا قطعا دخل نہ ہو اور تشریح : : ایمانی حالت کی یہ کیفیت ہو کہ اعمال مشقت نہ سمجھے۔وَكَانَ الْقِصَاصُ بَعْدَ ذَلِكَ : ایسی حالت میں نہ صرف نیک عمل کی قیمت وقدر بڑھ جاتی ہے۔بلکہ اگر اتفاق سے کسی بدی کا ارتکاب بھی ہو جائے تو اس کا دائرہ تاثیر بوجہ نیکی کی روح غالب ہونے کے نہایت محدود ہوگا۔سات سو گنا سے مراد اس کی عظمت سمجھانا ہے ورنہ خدا تعالیٰ کا انعام ایسے بندوں کے لئے غَيْرُ مَمْنُون یعنی دائی ہوتا ہے۔باب ٣٢: أَحَبُّ الدِّيْنِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهُ اللہ (عزوجل) کے نزدیک زیادہ پیارا عمل وہی ہے جو ہمیشہ ہی ہوتار ہے ٤٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۴۳ : ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا (انہوں نے کہا ) حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي کہ ہمیں کسی نے بتلایا۔انہوں نے ہشام سے أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ روایت کی۔کہا کہ میرے باپ نے حضرت عائشہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتلایا کہ وہ کہتی تھیں کہ قَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ فُلَانَةُ تَذْكُرُ مِنْ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آئے۔اس وقت ان کے پاس ایک عورت تھی۔فرمایا: یہ کون ہے؟ حضرت صَلَاتِهَا قَالَ مَه عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ عائشہ نے جواب دیا: فلاں عورت ہے۔اپنی نماز کا فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوْا وَكَانَ ذکر کرتی ہے۔آپ نے فرمایا: بس رہنے دو۔اتناہی أَحَبَّ الدِّيْنِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ کرو جتنا تم کر سکتے ہو۔بخدا اللہ نہیں اُکتائے گا مگر تم اُکتا جاؤ گے اور سب سے زیادہ پیارا عمل اسے وہی صَاحِبُهُ۔طرفه: ١١٥١۔تشریح ہے جسے کرنے والا ہمیشہ کرتا رہے۔اَحَبُّ الدِّيْنِ إِلى اللهِ اَدْوَمُهُ : اس میں ایک عورت کا ذکر ہے جو نماز میں بہت پڑھا کرتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نا پسند کیا اور فرمایا: عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيْقُوْنَ کسی عارضی جذبہ کے ماتحت لمبی لمبی نمازیں شروع کر دینا اور پھر جب وہ جوش و خروش جاتا رہے تو اس حالت پر قائم نہ رہنا یہ ایمان کا خاصہ نہیں۔صحیح ایمان میں دوام عمل ہوتا ہے اور اس کے ماتحت عقائد منطقی پیچیدگیوں سے اور اعمال افراط وتفریط سے خالی ہوتے ہیں۔