صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 59
صحيح البخاری جلد ا ۵۹ ٢ - كتاب الإيمان کمی علم کا نتیجہ تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کی اس غلا صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کی اس غلطی کی اصلاح فرماتے تو وہ آپ کو یہ جواب دیتے کہ آپ کو تو اعمال کی اتنی ضرورت نہیں۔ کیونکہ آپ بخشے گئے ہیں۔ یہ جواب بھی لاعلمی کی وجہ سے تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت تو اور بھی زیادہ شکر گزاری کو چاہتی ہے۔ یہ مثال نہایت خوبی سے اس امر کو واضح کرتی ہے کہ ایمان بغیر سچی معرفت کے کس قدر خطرہ میں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب کہ اَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمُ بِاللَّهِ أَنا اس راز کو منکشف کرتا ہے کہ حقیقی تقوی بغیر علم کے حاصل نہیں ہو سکتا۔ جس قدر کسی کو معرفت الہی ہو گی اسی قدر زیادہ وہ متقی ہوگا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ نے ایمان کی بحث میں قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت اور اس حدیث کو لا کر ضمنا ان فرقوں کا رڈ خوبی سے کر دیا ہے۔ جو ایمان کی تعریف میں افراط و تفریط سے کام لیتے ہیں۔ نہ محض زبان کا اقرار ، جس کا اثر دل میں نہیں کسی کو مومن بناتا ہے؛ جیسا کہ کرامیہ فرقہ کا خیال ہے۔ بلکہ ایسا ایمان لغو قسم کی حیثیت رکھتا ہے۔ محض عملی جہت پر زیادہ زور دینا کسی کو معرفت الہی و تقوی اللہ کے حقیقی مقام پر نہیں پہنچاتا۔ عربی میں گناہ کے لئے کئی ایک لفظ ہیں: ذَنْبٌ، خَطِيئَةٌ ، جنَاحٌ، بَأْسٌ ، إِثْمٌ ، جرم اور جَنَايَةٌ ۔ ان سب کے مفہوموں میں فرق ہے جن کے مترادف الفاظ اردو زبان میں نہیں۔ ذنب کے معنی بشری کمزوری ، غفر کے معنی ڈھانکنا ، پردہ ڈال دینا ۔ مِغْفَر خود کو کہتے ہیں جو سر کو ڈھانپتا ہے۔ مَغْفِرَت کے معنی ہیں پردہ پوشی کرنا، گناہ اور انسان کے درمیان پردہ ڈال دینا۔ یعنی اس کو گناہ سے بچا لینا ۔ امام قسطلانی" نے اس کے یہی معنے کئے ہیں: حَالَ بَيْنَكَ وَ بَيْنَ الذُّنُوبِ فَلا تَأْتِيهَا۔۔۔۔ الخ۔ (ارشاد الساری جزء اول صفحه ۱۰۳) یعنی ہم نے تیرے اور گناہ کے درمیان روک ڈال دی ہے۔ پس تجھ سے گناہ صادر نہیں ہوتے ۔ انبیاء کے لئے لفظ مغفرت انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ،دوسرا دوسرا مفہوم مغفرت کا امام قسطلانی نے یہ بیان کیا ہے کہ گناہ کی سزا سے بچالینا۔ صحابه صحابہؓ کاندکوره بالا قول اس آیت کی طرف اشارہ کرتا ہے: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا ۔ فَتْحًا مُّبِينًا ۔ لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تأخر ۔۔۔۔ (الفتح : ۲-۳) { ترجمہ: یقینا ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح عطا کی ہے۔ تاکہ اللہ تجھے تیری ہر سابقہ اور ہر آئندہ ہونے والی لغزش بخش دے۔۔۔۔} باب ١٤ مَنْ كَرِهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ مِنَ الْإِيْمَانِ یہ بھی ایمان سے ہی ہے کہ کوئی کفر میں لوٹنا ایسا ہی برا سمجھے جیسا آگ میں پر پڑنا ۲۱ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ :۲۱: ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ شعبہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ، حضرت انس نے نبی وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَ مَنْ كُنَّ فِيْهِ وَجَدَ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: