صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 50
صحيح البخاری جلد ا ٢ - كتاب الإيمان عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى الله سے روایت کی کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْإِسْلَام خَيْرٌ قَالَ سے پوچھا: اسلام کا کونسا عمل بہترین ہے؟ فرمایا: (یہ کہ) تو کھانا کھلائے اور سلامتی کی دعا کرے، اس تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَّمْ تَعْرِفْ۔اطرافه: ٢٨، ٦٢٣٦۔کے لئے جس کو تو جانتا ہے اور اس کے لئے بھی جسے تو نہیں جانتا۔تشریح : أَى الْإِسْلَامِ خَيْرٌ: نَفَرَا السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَّمْ تَعْرِف ساتی کی دعا اس کوبھی دو جس کو تم پہچانتے ہو اور اس کو بھی جس کو تم نہیں پہچانتے۔یعنی ہر کس و ناکس اور اپنے اور بیگانے کو بغیر کسی قسم کی تمیز کے۔یہ پاکیزہ تعلیم ہے اسلام کی اور السّلامُ عَلَيْكُمُ کا بھی یہی مفہوم ہے۔چونکہ دعا دلی تمنا اور دلی خواہش کا مظہر ہوتی ہے۔اس لئے ہر ایک کے لئے سلامتی کی دعا کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے شارع اسلام کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہو سکتا کہ تو غیروں کے لئے سلامتی کا موجب نہ بن۔چنانچہ کھانا کھلانے کے حکم میں بھی آپ نے کوئی تخصیص نہیں فرمائی۔بعض اوقات سلامتی کا موجب انسان صرف ترک شہر سے ہی نہیں ہوتا۔بلکہ نیکی کرنے سے سلامتی کا موجب بنتا ہے اور نیکی نہ کرنے سے دوسرے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔مثلاً قحط سالی ہے۔گھر میں ذخیرہ پڑا ہے اور ایک پڑوسی بھوکا مر رہا ہے۔اس وقت اس کو نہ کھلانا اسلام کے مقتضاء کے بالکل برعکس ہوگا۔سائل نے آئی الْإِسْلَام خَیر کہہ کر اُس بھلائی کو پوچھا ہے جو اسلام کے مفہوم کو بہترین طور پر ادا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جواب میں کھانا کھلانے کا ذکر کیا۔کیونکہ وہ جسم کی سلامتی کا واحد سبب ہے اور پھر اس کے بعد عام اصولی تعلیم دی کہ سلامتی کی آرزو ہر ایک کے لئے رکھنا اور سلامتی کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔خواہش کے بعد ہی عمل کی توفیق ملتی ہے۔مسلم ، حاکم اور ابن حبان نے بھی حدیث نمبر 11 روایت کی ہے اور ان کی روایت میں المُسْلِمُونَ“ کی بجائے النَّاسَ “ ہے۔یعنی تمام لوگ سلامتی میں رہیں۔امام ابن حجر نے بخاری کی اس حدیث کو بھی عام مفہوم میں ہی سمجھا ہے۔یعنی مسلم و غیر مسلم دونوں کو کھانا کھلانا اور ان کے لئے سلامتی کی دعا کرنا شعار اسلامی میں سے ہے۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۷۶ ) بَاب : مِنَ الْإِيْمَانِ أَنْ يُحِبَّ لِأَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ایمان میں سے یہ بھی ہے کہ (انسان) اپنے بھائی کے لئے وہ بات پسند کرے جو خود اپنے لئے پسند کرتا ہے ۱۳: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ١٣: ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا: جی نے ہمیں يَحْيِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ جلایا۔انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے۔حضرت