صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 839 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 839

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۸۳۹ بَابِ ۳۱: فِي الْمَشِيئَةِ وَالْإِرَادَةِ مشیت اور ارادے کے متعلق ۹۷- كتاب التوحيد وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: تو جسے چاہتا ہے سلطنت تَشَاءُ (آل عمران: ۲۷) وَمَا تَشَاءُونَ دیتا ہے۔(اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) اور تم کچھ بھی اِلَّا اَنْ يَشَاءَ الله (الدھر: ۳۱) وَلَا نہیں چاہ سکتے سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔(اور تَقُولَنَّ لِشَايْءٍ اِنّى فَاعِلُ ذَلِكَ غَدًان نیز یہ فرمانا:) اور تو کسی بات کے متعلق (دعویٰ اِلَّا اَنْ يَشَاءَ اللهُ (الكهف: ٢٥،٢٤) سے) ہرگز نہ کہہ (کہ) میں کل یہ (کام) ضرور إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَ لكِنَّ اللهَ کروں گا۔ہاں (صرف اس طرح کروں گا) جس يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ (القصص: ٥٧) قَالَ طرح اللہ چاہے گا۔( نیز یہ فرمانا:) تو جس کو پسند کرے ہدایت نہیں دے سکتا لیکن اللہ جسے چاہے سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ نَزَلَتْ فِي أبي طالب۔يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا ہدایت دیتا ہے۔سعید بن مسیب نے اپنے باپ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (البقرة: ١٨٦) سے نقل کیا کہ یہ آیت ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ( اور نیز یہ فرمانا:) اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا۔٧٤٦٤: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۷۴۶۴: مد د نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ نے ہمیں بتایا انہوں نے عبدالعزیز سے، عبد العزیز قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت انس سے روایت کی۔انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ إِذَا دَعَوْتُمُ اللَّهَ فَاعْزِمُوا فِي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ الدُّعَاءِ وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنْ شِئْتَ سے دعا کرو تو دعا میں پختہ یقین کے ساتھ مانگو اور فَأَعْطِنِي فَإِنَّ اللَّهَ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ۔تم میں سے کوئی یہ نہ کہے اگر تو چاہے تو مجھ کو دے کیونکہ اللہ سے کوئی جبر آلینے والا نہیں۔طرفه: ٦٣٣٨- ٧٤٦٥: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۴۶۵ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب