صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 750
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۵۰ ۹۷- كتاب التوحيد ٧٤١١: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۴۱۱ : ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ نے ہمیں بتایا۔ ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدُ اللهِ مَلْأَى لَا ابوہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وسلم نے فرمایا: اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے رات اور وَقَالَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ دن کھلے ہاتھوں خرچ کرنا اس میں سے گھٹاتا نہیں السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضُ مَا اور فرمایا: بھلا تم نے دیکھا کہ جب سے اس نے فِي يَدِهِ وَقَالَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اس نے کتنا کچھ خرچ کیا۔ اس خرچ نے بھی اس خزانے کو کم نہیں کیا وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ۔ أطرافه : ٤٦٨٤ ، ٥٣٥٢، ٧٤١٩، ٧٤٩٦۔ جو اس کے ہاتھ میں ہے اور فرمایا: اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے جھکاتا بھی ہے اور اُٹھاتا بھی ہے۔ ٧٤١٢ : حَدَّثَنَا مُقَدَّمُ بْنُ مُحَمَّدِ ۷۴۱۲ : مقدم بن محمد بن یحییٰ نے ہم سے بیان کیا، بْنِ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي الْقَاسِمُ کہا: میرے چچا قاسم بن بچی نے مجھ سے بیان کیا۔ بْنُ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعِ انہوں نے عبید اللہ سے، عبید اللہ نے نافع سے، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَن نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ، حضرت رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ابن عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقْبِضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کی کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ قیامت کے دن زمین الْأَرْضَ وَتَكُونُ السَّمَوَاتُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ کو سمیٹ لے گا اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ اس يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ۔ رَوَاهُ سَعِيدٌ عَنْ مالِكِ۔ حدیث کو سعید نے مالک سے روایت کیا۔ أطرافه: ٣١٩٤، ٧٤٠٤ ، ٧٤٥٣، ٧٥٥٣، ٧٥٥٤۔