صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 683 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 683

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۸۳ ۹۷ - كتاب التوحيد نام داخل نہ فرماتے کیونکہ حضور اکرم صلی الی یام وحی سے کلام فرماتے تھے اس لئے بعض اسماء ایسے ہیں جو بطور وحی حضور اکرم علی م پر ظاہر فرمائے گئے اور ان میں صبور نام بھی ہے۔“ (خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۹۵ء، جلد ۱۴ صفحه ۵۰۱ تا۵۰۳) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے سے بھاگنے والے سرکشوں اور اپنے دشمنوں کو بھی رزق پہنچاتا اور سہارا دیتا ہے اور یہ اس کی رحیمیت کا نشان ہے۔دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن خدا کے دشمن تھے۔ابو جہل چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا، اس لئے خدا کا بھی دُشمن تھا مگر خدا اس کو رزق دیتا تھا۔کیوں؟ اس لئے کہ آخر تھا تو اُسی کا بندہ۔“ (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۱۱/ اکتوبر ۱۹۱۸، جلد ۲ صفحه ۱۲۰) بَاب ٤ قَوْلُ اللهِ تَعَالَى عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا (الجن: ٢٧) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: غیب کا جاننے والا وہی ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی کو غالب نہیں کرتا وَإِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ (لقمان: ٣٥) ( نیز اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور قیامت (یا کسی قوم انْزَلَه بِعِلْيه (النساء : ١٦٧) وَمَا کے آخری فیصلہ ) کا علم اللہ ہی کو ہے۔(نیز یہ تَحْمِلُ مِنْ اُنْثَى وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ فرمانا:) اس نے اسے اپنے علم پر مشتمل کر کے اُنتارا علم (فاطر:۱۲) إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ ہے۔(اور یہ فرمانا: ) اور کسی عورت کو حمل نہیں (لحم السجدة:٤٨) قَالَ يَحْيَى الظَّاهِرُ ہوتا اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر وہ خدا کے علم کے عَلَى كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا وَالْبَاطِنُ عَلَى مطابق ہوتا ہے۔( نیز یہ فرمانا:) قیامت کا علم اسی كُلّ شَيْءٍ عِلْمًا۔کی طرف لوٹایا جاتا ہے (یعنی قیامت کا کامل علم اسی کو حاصل ہے۔) یحی نے کہا کہ وہ اپنے علم کی وجہ سے ہر شے پر ظاہر ہے اور اپنے علم کی وجہ سے ہر شے سے پوشیدہ ہے۔۷۳۷۹: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَحْلَدٍ حَدَّثَنَا ۷۳۷۹: خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ