صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 681 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 681

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۸۱ ۹۷ - كتاب التوحيد میں کیوں یہ اہم صفت بیان نہیں ہوئی جبکہ اس کا حق سے بڑا تعلق ہے اور اشاعت حق سے اس کا بہت تعلق ہے۔تو اس پر غور کرتے ہوئے یہ معلوم ہوا ہے کہ صبر میں اصل میں بنیادی طور پر دو آزمائشیں انسان کے سامنے ہوتی ہیں ایک غصے کی آزمائش اور ایک رحم کی آزمائش۔جہاں تک رحم کا تعلق ہے وہ آزمائش دو طرح سے ہے کسی دوسرے پر رحم آرہا ہو یا اپنے آپ پر رحم آرہا ہو، اپنے آپ کو قابلِ رحم حالت میں پائے کیونکہ یہ دوسرے حصے کا تعلق کسی پہلو سے بھی اللہ کی ذات سے ہو نہیں سکتا اور اس میں محض غصے والی حالت یعنی غضب کی حالت میں ہاتھ روک لینے والا مضمون ہے اس لئے مضمون کے لحاظ سے تو قرآن کریم میں یہ موجود ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے گناہوں پر خدا تمہاری پکڑ کرتا تو وہ زمین پر کوئی جاندار نہ چھوڑتا۔تو یہ دراصل صبر ہی کی صفت ہے مگر اس پہلو سے اسے حلیم کہا جاتا ہے۔علم ہی دراصل صبر کی ایک شکل ہے اور چونکہ مضمون کے لحاظ سے صبر کا معنی خدا کی ذات میں پایا جاتا ہے اس لئے آنحضرت ملا ہم نے اسمائے ذات باری تعالیٰ میں صبور نام کو بھی داخل فرمایا۔خدا کن معنوں میں صبور ہے؟ یہ تو نہیں کہ خدا کے خلاف نعوذ باللہ من ذالک کوئی حملے ہو رہے ہیں اور وہ مجبور کیا جارہا ہے ، درد ناک حالت میں پہنچ گیا ہے اور صبر کر رہا ہے۔ہاں اس کے برعکس خدا کو غصہ دلانے کی بہت باتیں ہوتی ہیں اتنا زیادہ خدا کے خلاف باغیانہ اور شکر سے عاری رویہ اختیار کیا جاتا ہے کہ اگر ان باتوں پر صبر نہ کرے تو تمام دنیا کو ہلاک کر دے۔پس یہ صبر مجبوری کا صبر نہیں ہے بلکہ حلم کا صبر ہے۔اس صبر کے مضمون کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ الله یمن نے دشمنوں پر بد دعا کرنے کے تعلق میں بیان فرمایا ہے۔جہاں تک دشمن پر براہ راست غالب آنے کا تعلق ہے مسلمانوں میں ابتداء جو کمزوری کی حالت تھی جسمانی لڑائی میں تو کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی کہ وہ ان پر غالب آ سکے، نہ اللہ نے ان کو اس وقت اجازت دی کہ وہ مقابلہ کریں لیکن بددعا کا ایک رستہ کھلا