صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 561 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 561

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۶۱ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة فرمایا: کے عملی نمونوں کے دریافت کیلئے جن پر اتباع موقوف ہے حدیث بھی ایک ذریعہ ہے۔پس جو شخص حدیث کو چھوڑتا ہے وہ طریق اتباع کو بھی چھوڑتا ہے۔“ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۰۸) ”میں اپنے بچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیر وی اس نبی ملایم کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کا ملہ کا حصہ پاسکتا ہے اور میں اس جگہ یہ بھی بتلاتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے جو سچی اور کامل پیروی آنحضرت مصلی یکم کے بعد سب باتوں سے پہلے دل میں پیدا ہوتی ہے۔سو یا د رہے کہ وہ قلب سلیم ہے یعنی دل سے دنیا کی محبت نکل جاتی ہے اور دل ایک ابدی اور لازوال لذت کا طالب ہو جاتا ہے اور پھر بعد اس کے ایک مصفی اور کامل محبت الہی بباعث اس قلب سلیم کے حاصل ہوتی ہے اور یہ سب نعمتیں آنحضرت صلی الی یکم کی پیروی سے بطور وراثت ملتی ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (ال عمران: ۳۲) یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۴، ۶۵) نیز فرمایا: اللہ تعالیٰ کی محبت کامل طور پر انسان اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور طرز عمل کو اپنار ہبر اور ہادی نہ بناوے۔چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت فرمایا ہے: قل ان كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (آل عمران: ۳۲) یعنی محبوب الہی بننے کے لئے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جاوے۔سچی اتباع آپ کے اخلاق فاضلہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرنا ہوتا ہے۔“ (ملفوظات، جلد دوم صفحہ ۶۲) آپ فرماتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ مسلمانوں کو حکم کرتا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے پر چلیں اور آپ کے ہر قول اور فعل کی پیروی کریں۔چنانچہ فرماتا ہے: لقد كان لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: ۲۲) پھر فرماتا ہے : إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ