صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 557 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 557

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۵۷ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ کو لیا جاوے اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔حضرت إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو بکر نے ( یہ سن کر) جواب دیا: اللہ کی قسم !میں تو لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ فَقَالَ عُمَرُ فَوَ اللَّهِ اس شخص سے ضرور لڑوں گا جس نے نماز اور زکوۃ۔مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ میں فرق کیا کیونکہ زکوۃ (اللہ کا) وہ حق ہے جو مال أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ سے لیا جاتا ہے۔اللہ کی قسم ! اگر لوگوں نے وہ رسی کا بندھن بھی مجھ سے روکے رکھا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تب بھی میں اُن سے اس کے روکنے پر لڑوں گا۔حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم ! بات صرف یہی تھی کہ میں نے دیکھا، اللہ نے حضرت ابو بکر کے سینے کو لڑائی کیلئے کھول دیا تھا۔پھر میں بھی سمجھ گیا کہ یہی حق ہے۔قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ عَنِ اللَّيْثِ ابن بکیر اور عبد اللہ نے لیث سے (بجائے عقال کے عناقاً نقل کیا۔(یعنی بکری کا پلوٹھا) اور عَنَافًا وَهُوَ أَصَحُ۔وہی زیادہ صحیح ہے۔أطراف الحديث :۷۲۸٤ ۱۳۹۹، ١٤٥٧، ٦٩٢٤- أطراف الحديث :۷۲۸۵ ١٤۰۰، ١٤٥٦، ٦٩٢٥۔٧٢٨٦: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي :۷۲۸۶ اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وہب نے مجھے بتایا۔انہوں نے یونس سے، یونس حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عیینہ بن حصن بن حذیفہ قَالَ قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بن بدر مدینہ میں آئے اور اپنے بھتیجے حربن قیس بْنِ بَدْرٍ فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ أَخِيهِ الْحُرِ بْنِ بن حصن کے پاس ٹھہرے اور محر اُن لوگوں میں سے قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ وَكَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ تھے جنہیں حضرت عمرؓ اپنے قریب بٹھایا کرتے يُدْنِيهِمْ عُمَرُ وَكَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ تھے اور علماء حضرت عمر کی مجلس میں بیٹھنے والے