صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 543
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۴۳ -۹۶ کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة بسم الله الرحمن الرحيم ٩٦ - كِتَابُ الْاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ کتاب اور سنت کی پابندی کرنے کا بیان عصم کے معنی ہیں روک رکھنا، منع کرنا اور چمٹ جانا۔اسی سے لفظ عِصْمَةٌ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کو بُرائی سے روکنا اور بچانا۔(مقاییس اللغة - عصم) اعتصم باللہ کے معنی ہیں امْتَنَعَ بِلُطْفِهِ مِنَ الْمَعْصِيَّةِ۔یعنی وہ اللہ کے لطف وکرم سے معصیت میں پڑنے سے رُک گیا اور اعْتَصَمَ فلانٌ مِّنَ الشَّرِ وَالْمَكْرُوةِ کے معنی ہیں الْتَجَا وا مُتَنَعَ یعنی اُس نے شر اور ناپسندیدہ امر سے بچنے کے لیے پناہ چاہی۔(اقرب الموارد - عصم) امام بخاری اس کتاب میں ۱۲۷ ، احادیث لائے ہیں۔ان میں سے ایک سو دس مکرر روایات ہیں۔صحابہ و تابعین کے ۱۶، اقوال پیش کئے ہیں اور اُن پر اٹھائیس ابواب قائم کئے ہیں۔(فتح الباری، جزء ۱۳ صفحہ ۴۲۰) ٧٢٦٨: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۲۶۸ حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن سُفْيَانُ عَنْ مَسْعَرٍ وَغَيْرِهِ عَنْ قَيْسِ عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مسعر اور بعض بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ اور راویوں سے ،مسعر نے قیس بن مسلم سے ، قیس قَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْيَهُودِ لِعُمَرَ يَا أَمِيرَ نے حضرت طارق بن شہاب سے روایت کی۔الْمُؤْمِنِينَ لَوْ أَنَّ عَلَيْنَا نَزَلَتْ هَذِهِ انہوں نے کہا: یہودیوں میں سے ایک شخص نے الآيَةُ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ حضرت عمر سے کہا: امیر المؤمنین ! اگر یہ آیت ہم عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيناً پر نازل ہوئی: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ - تو (المائدة: ٤) لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ہم اس دن کو عید مناتے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيَّ يَوْمٍ نَزَلَتْ میں خوب جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل هَذِهِ الْآيَةُ نَزَلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ۔ہوئی۔عرفہ کے دن جمعہ کے روز نازل ہوئی۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر میں نے اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور میں نے اسلام کو تمہارے لئے دین کے طور پر پسند کر لیا ہے۔“