صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 543
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۴۳ ۹۶ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة بسم الله الرحمن الرحيم ٩٦ - كِتَابُ الْاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ کتاب اور سنت کی پابندی کرنے کا بیان عصم کے معنی ہیں روک رکھنا، منع کرنا اور چمٹ جانا۔ اس سے لفظ عِصْمةُ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کو بُرائی سے روکنا اور بچانا۔ (مقاييس اللغة - عصم) اعتصم باللہ کے معنی ہیں امْتَنَعَ بِلُطْفِهِ مِنَ الْمَعْصِيَّةِ یعنی وہ اللہ کے لطف وکرم سے معصیت میں پڑنے سے رُک گیا اور اعْتَصَمَ فُلَانٌ مِنَ الشَّرِ وَالْمَكْرُونِ کے معنی ہیں الْتَجَا وامتنع یعنی اُس نے شہر اور ناپسندیدہ امر سے بچنے کے لیے پناہ چاہی۔ (اقرب الموارد - عصم ) امام بخاری اس کتاب میں ۱۴۷، احادیث لائے ہیں۔ ان میں سے ایک سو دس مکرر روایات ہیں۔ صحابہ و تابعین کے ۱۶، اقوال پیش کئے ہیں اور اُن پر اٹھائیس ابواب قائم کئے ہیں۔ ( فتح الباری، جزء ۱۳ صفحہ ۴۲۰) ٧٢٦٨: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۷۲۶۸: حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان ( بن سُفْيَانُ عَنْ مِسْعَرٍ وَغَيْرِهِ عَنْ قَيْسٍ عینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مسعر اور بعض بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ اور راویوں سے، مسعر نے قیس بن مسلم سے ، قیس قَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْيَهُودِ لِعُمَرَ يَا أَمِيرَ نے حضرت طارق بن شہاب سے روایت کی۔ الْمُؤْمِنِينَ لَوْ أَنَّ عَلَيْنَا نَزَلَتْ هَذِهِ انہوں نے کہا: یہودیوں میں سے ایک شخص نے الْآيَةُ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ حضرت عمرؓ سے کہا: امیر المؤمنین! اگر یہ آیت ہم عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا پر نازل ہوئی : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم تو (المائدة: ٤) لَا تَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ہم اس دن کو عید مناتے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں خوب جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيَّ يَوْمٍ نَزَلَتْ ہوئی۔ عرفہ کے دن جمعہ کے روز نازل ہوئی۔ هَذِهِ الْآيَةُ نَزَلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ۔ ا ترجمه حضرت خليفة المس يت خليفة المسیح الرابع : " آج کے دن میں نے نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر میں نے اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور میں نے اسلام کو تمہارے لئے دین کے طور پر پسند کر لیا ہے۔“