صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 541 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 541

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۵۴۱ ۹۵- کتاب اخبار الآحاد الْأَشْرِبَةِ فَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ وَأَمَرَهُمْ ہیں جس کے ذریعہ سے ہم جنت میں داخل ہوں بِأَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ قَالَ هَلْ اور ہم ان لوگوں کو بھی بتائیں جو ہمارے پیچھے ہیں تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ؟ قَالُوا اللہ اور انہوں نے شرابوں کے کے متعلق پوچھا تو آپ نے وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَّا إِلَهَ چار باتوں سے انہیں منع فرمایا اور چار باتوں کا انہیں إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا هم دیا۔ آپؐ نے ان کو اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟ وَأَظُنُّ فِيهِ صِيَامُ رَمَضَانَ وَتُؤْتُوا مِنَ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، الْمَغَائِمِ الْخُمْسَ وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ آپ نے فرمایا: یہ شہادت دینا کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ۔ قَالَ احْفَظُوهُنَّ وَأَبْلِغُوهُنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ۔ اللہ کا رسول ہے اور نماز کو سنوار کر ادا کرنا اور زکوٰۃ دینا اور میں سمجھتا ہوں اس حدیث میں رمضان کے روزے بھی ہیں اور یہ کہ تم غنیمتوں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور آپ نے ان کو کدو کے تو نہے اور سبز لاکھی برتن اور رال کے برتن اور کریدی ہوئی لکڑی کے برتن سے منع فرمایا۔ کبھی راوی نے بجائے النقير کے المُقیر کہا۔ آپ نے فرمایا: ان باتوں کو یاد رکھو اور جو تمہارے پیچھے ہیں اُن کو یہ پہنچا دو۔ أطرافه: ۵۳، ۸۷، ۵۲۳، ۱۳۹۸ ، ۳۰۹۵، ٣٥١٠ ، ٤٣٦٨ ، ٤٣٦٩، ٦١٧٦، ٧٥٥٦۔ کا تشريح : وَصَاةُ النَّبِيِّ ﷺ وَفُودَ الْعَرَبِ أَنْ يُبَلِّغُوا مَنْ وَرَاءَهُمْ في صلى الله عليه وسلم العرب کے نمائندوں کو یہ تاکید فرمانا کہ وہ ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچادیں جو ان کے پیچھے ہیں۔ علامہ ابن حجر معنونہ روایات کی غرض بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ” ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچادیں جو پیچھے ہیں“ ( وفد کے ہر فرد کے لیے تھا۔ پس اگر ایک شخص کی تبلیغ سے حجت قائم نہ ہو سکتی تو آپ انہیں اس کی ترغیب نہ دلاتے۔ ( فتح الباری، جزء ۱۳ صفحہ ۲۹۹)