صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 504
صحیح البخاری جلد ۱۶ م ۵۰ ۹۴ - كتاب التمني حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ بِهَذَا۔بر محل خرچ کر رہا ہو اور کوئی کہے: کاش اگر مجھے بھی ایسا ہی دیا جائے جیسا اسے دیا گیا ہے تو میں بھی ایسا ہی کروں جیسے وہ کرتا ہے۔ہم سے قتیبہ نے بیان أطرافه: ٥٠٢٦، ٧٥٢٨۔کیا کہ جریر نے بھی ہمیں بتایا۔تشریح : تَمَلى الْقُرْآنِ وَالْعِلْمِ : قرآن پڑھنے اور علم سیکھنے کی آرزو کرنا۔نیک باتوں اور صالح اعمال کی خواہش کرنا دراصل دعا کی ہی ایک صورت ہے اور یہ کیفیت بھی دعا ہے اور یہ خواہش خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کا باعث بنتی ہے کیونکہ اس میں حسد کی وہ مکروہ صورت نہیں جو دوسرے سے نعمت کے چھن جانے اور محروم ہونے کی آگ کی صورت میں بھڑکتی ہے بلکہ یہ وہ دعا ہے جو دونوں کے لئے ابر رحمت بن کر برستی ہے اس لئے اسے پسند کیا گیا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ر شک اور غبطہ بھی ایک نعمت ہے۔کسی کو علم آتا ہے اور وہ اس علم کو رات دن اللہ تعالیٰ کے لیے بڑھاتا ہے، کسی کے پاس مال ہے اور وہ اسے صبح و شام رضاء الہی میں خرچ کرتا ہے تو رسول کریم نے فرمایا کہ اس کی حالت قابل غبطہ ہے۔اب دیکھو اللہ جس بات کی تعریف کرے وہ کیوں مومن کیلئے قابل رشک نہ ہو۔“ (حقائق الفرقان، جلد ۲ صفحه ۱۲۱) بَابِ ٦ : مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّمَنِّي آرزو کرنا جو نا پسندیدہ ہے وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِهِ بَعْضَكُم عَلَى الله تعالیٰ فرماتا ہے:) اور جو اللہ نے تم میں سے بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا وَ ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اُس کی ہوس نہ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ ، وَسُتَلُوا الله کرو۔مردوں کا بھی حصہ ہے اُس میں سے جو انہوں مِنْ فَضْلِهِ إِنَّ اللهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ نے کمایا اور عورتوں کا بھی اس میں سے حصہ ہے جو عورتوں نے کمایا اور اللہ سے اس کا فضل مانگتے رہو۔عَلِيمًا (النساء:۳۳)۔اللہ ہر ایک بات کو خوب جانتا ہے۔۷۲۳۳: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبيع ۷۲۳۳: حسن بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ