صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 486 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 486

صحیح البخاری جلد ۱۶ MAY ۹۳ - كتاب الأحكام شریف باب مناقب قریش یعنی اسلام باراں خلیفوں کے ظہور تک غالب رہے گا اور وہ تمام خلیفے قریش میں سے ہوں گے۔اس جگہ یہ دعویٰ نہیں ہو سکتا کہ مسیح موعود بھی انہی باراں میں داخل ہے کیونکہ متفق علیہ یہ امر ہے کہ مسیح موعود اسلام کی قوت کے وقت نہیں آئے گا بلکہ اس وقت آئے گا جبکہ زمین پر نصرانیت کا غلبہ ہو گا جیسا کہ یکسر الصلیب کے فقرہ سے مستنبط ہوتا ہے۔پس ضرور ہے کہ مسیح کے ظہور سے پہلے اسلام کی قوت جاتی رہے اور مسلمانوں کی حالت پر ضعف طاری ہو جائے اور اکثر ان کے دوسری طاقتوں کے نیچے اسی طرح محکوم ہوں جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ظہور کے وقت یہودیوں کی حالت ہو رہی تھی۔چونکہ حدیثوں میں مسیح موعود کا خاص طور پر تذکرہ تھا اس لئے باراں خلیفوں سے اس کو الگ رکھا گیا کیونکہ مقدر ہے کہ وہ نزول شدائد و مصائب کے بعد آوے اور اس وقت آوے جبکہ اسلام کی حالت میں ایک صریح انقلاب پیدا ہو جائے اور اسی طرز سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے تھے یعنی ایسے وقت میں جبکہ یہودیوں میں ایک صریح زوال کی علامت پیدا ہو گئی تھی پس اس طریق سے حضرت موسیٰ کے خلیفے بھی تیرہ ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفے بھی تیرہ اور جیسا کہ حضرت موسیٰ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام چودھویں جگہ تھے ایسا ہی ضرور تھا کہ اسلام کا مسیح موعود بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چودھویں جگہ پر ہو اِسی مشابہت سے مسیح موعود کا چودھویں صدی میں ظاہر ہونا ضروری تھا۔“ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد۷ احاشیه صفحه ۱۲۵) باب ٥٢ : إِخْرَاجُ الْخُصُومِ وَأَهْلِ الرِّيَبِ مِنَ الْبُيُوتِ بَعْدَ الْمَعْرِفَةِ جھگڑالوؤں اور مشکوک آدمیوں کو معلوم ہونے کے بعد گھروں سے نکلوادینا وَقَدْ أَخْرَجَ عُمَرُ أُخْتَ أَبِي بَكْرٍ اور حضرت عمر نے بھی حضرت ابو بکر کی بہن کو جب اس نے بین کیا نکلوادیا۔حِينَ نَاحَتْ۔٧٢٢٤: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ۷۲۲۴: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَج مجھے بتایا۔اُنہوں نے ابو زناد سے۔اُنہوں نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم