صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 485
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۸۵ ۹۳ - كتاب الأحكام اپنے ایک کمزور بندے کو چلتا ہے جسے لوگ بعض اوقات حقیر بھی سمجھتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اس کو چن کر اس پر اپنی عظمت اور جلال کا ایک ایسا جلوہ فرماتا ہے کہ اس کا وجود دنیا سے غائب ہو کر خدا تعالیٰ کی قدرتوں میں چھپ جاتا ہے۔تب اللہ تعالیٰ اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے اور اپنی تائید و نصرت ہر حال میں اس کے شامل حال رکھتا ہے اور اس کے دل میں اپنی جماعت کا درد اس طرح پیدا فرما دیتا ہے کہ وہ اس درد کو اپنے درد سے زیادہ محسوس کرنے لگتا ہے اور یوں جماعت کا ہر فرد یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس کا در در رکھنے والا، اس کے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا اس کا ہمدرد ایک وجود موجود ہے۔روزنامه الفضل ۱۳۰ مئی ۲۰۰۳ صفحه ۲) 66 كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْش : وہ سبھی قریش سے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تعجب کہ یہ علماء يضع الحرب کے کلمہ کو کیوں نہیں سوچتے اور حدیث الائمۃ من قریش کو کیوں نہیں پڑھتے پس جب کہ ظاہری سلطنت اور خلافت اور امامت بجز قریش کے کسی کیلئے رواہی نہیں تو پھر مسیح موعود جو قریش میں سے نہیں ہے۔کیونکر ظاہری خلیفہ ہو سکتا ہے اور یہ کہنا کہ وہ مہدی سے بیعت کرے گا اور اس کا تابع ہو گا اور نوکروں کی طرح اس کے کہنے سے تلوار اٹھائے گا عجب بے ہودہ باتیں ہیں۔“ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۷۰، ۲۷۱) پھر فرمایا: لا يزال الاسلام عزيزا الى اثنا عشر خليفة كلهم من قریش یعنی بارہ خلیفوں کے ہوتے تک اسلام خوب قوت اور زور میں رہے گا مگر تیرھواں خلیفہ جو مسیح موعود ہے اُس وقت آئے گا جبکہ اسلام غلبه صلیب اور غلبہ دجالیت سے کمزور ہو جائے گا اور وہ بارہ خلیفے جو علیہ اسلام کے وقت آتے رہیں گے وہ سب کے سب قریش میں سے ہوں گے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم میں سے ہوں گے۔مگر مسیح موعود جو اسلام کے ضعف کے وقت آئے گا وہ قریش کی قوم میں سے نہیں ہو گا کیونکہ ضرور تھا کہ جیسا کہ موسوی سلسلہ کا خاتم الا نبیاء اپنے باپ کے رو سے حضرت موسیٰ کی قوم میں سے نہیں ہے ایسا ہی محمد ی سلسلہ کا خاتم الاولیاء قریش میں سے نہ ہو۔(تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد۱۷ صفحه ۱۲۶،۱۲۵) نیز آپ نے فرمایا: وو الفاظ حدیث یہ ہیں : عن جابر بن سمرة قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول لا يزال الاسلام عزيزا الى اثنى عشر خليفة كلهم من قريش متفق عليه مشكوة