صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 470
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام تَنْفِي خَبَثَهَا وَتَنْصَعُ طِيبَهَا۔۔طرح ہے جو میل باہر پھینک دیتا ہے اور اس کی صاف چیز خالص ہو جاتی ہے۔أطرافه : ۱۸۸۳، ۷۲۱۱، ۷۲۱۶، تشریح : بَيْعَةُ الْأَعْرَاب : بدویوں کا بیعت کرنا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: " روایت میں ناقص افراد کی مثال دی گئی ہے کہ وہ مدینہ میں نہیں رہنے پائیں گے۔“ (ترجمه و شرح صحیح بخاری جلد ۳ صفحه ۵۵۱) وو بَاب ٤٦ : بَيْعَةُ الصَّغِيرِ چھوٹے کا بیعت کرنا ۷۲۱۰: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۷۲۱۰ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا کہ عبد الله بن یزید نے ہمیں بتایا۔سعید نے جو سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ ابو ایوب کے بیٹے ہیں، ہم سے بیان کیا۔انہوں حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ عَنْ نے کہا: ابو عقیل زہرہ بن معبد نے مجھے بتایا۔جَدِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ وَكَانَ قَدْ اُنہوں نے اپنے دادا حضرت عبد اللہ بن ہشام سے روایت کی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ ابْنَةُ حُمَيْدٍ إِلَى ا زمانہ پایا تھا اور ان کی ماں حضرت زینب بنت حمید اُن کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاس گئی تھیں۔اُن کی ماں نے کہا: یارسول اللہ ! فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْهُ فَقَالَ آپ اس سے بیعت لیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَغِيرٌ فرمایا: وہ چھوٹا ہے اور آپ نے اُن کے سر پر ہاتھ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَدَعَا لَهُ۔وَكَانَ يُضَحِي پھیرا اور اُن کے لئے دعا کی۔اور حضرت عبد اللہ بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ۔بن ہشائم اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری قربانی کیا کرتے تھے۔طرفه : ٢٥٠١ - 1۔بعض نسخوں میں اس جگہ الفاظ ”وَيَنْصَحُ طِيْبُهَا" ہیں۔( صحیح البخاری مطبوعه مكتبة الرشد الریاض صفحه ۹۹۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔