صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 446
صحیح البخاری جلد ۱۶ ام سلام سلام ۹۳ - كتاب الأحكام مَعَ خُزَيْمَةَ أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ فَأَلْحَقْتُهَا میں نے سورۃ توبہ کی آخری آیت لَقَدْ جَاءَكُمْ فِي سُورَتِهَا وَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ آخر تک حضرت خزیمہ یا کہا أَبِي بَكْرٍ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ حضرت ابو خزیمہ کے پاس پائی اور میں نے اس کو اس کی اپنی سورۃ میں ملا دیا اور یہ صحف حضرت وَجَلَّ ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ ابو بکر کے پاس اُن کی زندگی میں رہے یہاں تک اللهُ ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ ۔ قَالَ کہ اللہ عزوجل نے اُن کو وفات دی پھر حضرت مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ اللَّخَافُ يَعْنِي عمرؓ کے پاس اُن کی زندگی میں رہے یہاں تک کہ الْخَزَفَ۔ اللہ نے اُن کو وفات دی پھر حضرت عمرؓ کی بیٹی حضرت حفصہ کے پاس رہے ۔ محمد بن عبید اللہ نے کہا : لِخَافُ کے معنی ہیں ٹھیکرے۔ أطرافه : ۲۸۰۷ ، ٤٠٤۹ ، ٤٦٧٩، ٤٧٨٤، ٤٩٨٦، ٤٩٨٨، ٤٩٨٩، ٧٤٢٥۔ : کا امین اور عمند ہونا پسندیدہ ہے۔ تشريح : يُسْتَحَبُّ لِلْكَاتِبِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا عَاقِلًا: کات کا امین اور فقمند ہونا حضرت زید بن ثابت ایک نوجوان صحابی تھے۔ جنہوں نے جنگ بدر کے قیدیوں سے عربی لکھنا پڑھنا سیکھا تھا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب خاص تھے۔ اے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق فرمایا: إِنَّكَ كُنتَ تَكْتُبُ الْوَحْى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسلم کے لئے وحی لکھا کرتے تھے۔ حضرت زید بن ثابت سے پہلے حضرت ابی بن کعب قرآنی وحی کو لکھا کرتے تھے اور مدینہ میں بھی پہلے پہل وحی حضرت ابی بن کعب نے ہی تحریر فرمائی۔ مکہ میں پہلے پہل قریش میں سے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کا تب وحی تھے۔ پھر وہ مرتد ہو گئے اور فتح مکہ کے موقع پر دوبارہ مسلمان ہوئے۔ تاریخ سے پندرہ کاتبین وحی کے نام ثابت ہیں۔ حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان ، حضرت علی ، زید بن ثابت، ابی بن کعب ، عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح ، زبیر بن العوام، خالد بن سعید بن العاص، العاص، ابان بن سعید العاص بن امیہ ، حنظلہ بن الربیع الاسدی، معیقیب بن ابی فاطمہ عبدا فاطمہ عبد اللہ بن ارقم الزہری ، ارقم الزهری، شرحبیل بن حسنہ، عبد اللہ بن رواحہ ( فتح الباری جزء ۹ صفحه ۲۹) جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم نازل ہوتا تو آپ ان لو ہوتا تو آپ ان لوگوں میں سے کسی کو بلا کر وحی لکھوا دیتے تھے۔ کہے R ン ترجمه و شرح صحیح بخاری جلد ۱۲ صفحه ۵۳۱، ۵۳۲) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: حضرت زید بن ثابت انصاری نے حضرت ابو بکر کے زمانہ خلا خلافت میں قرآن کریم کو مصحف الإصابة في تمييز الصحابة، ذكره من اسمه زيده زيد بن ثابت، جزء ۲ صفحه ۴۹۱) (سنن الترمذى، أَبْوَابُ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَابٍ وَمِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ)