صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 419
۴۱۹ صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۳ - كتاب الأحكام قبول نہ کرنے کے پیچھے کوئی عذر ہو، مثلاً منکرات وغیرہ کا دیکھا جانا اور (حاکم) دعوت قبول نہ کر کے اس کے ازالہ کی کوشش کر رہا ہے تو یہ جائز ہے۔پھر اگر ان کا کثرت سے ہونا اس کے فرائض منصبی میں حائل ہو تو بھی اس کے شایان یہی ہے کہ وہ قبول نہ کرے۔(فتح الباری جزء ۱۳ صفحه ۲۰۳) حضرت رت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ آپ رستہ میں سے گزر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا ایک بکری بھون کر لوگوں نے رکھی ہوئی ہے اور دعوت منارہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ان لوگوں نے آپ کو بھی دعوت دی مگر آپ نے انکار کر دیا۔اس کی یہ وجہ نہیں تھی کہ آپ بھونا ہوا گوشت کھانا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ آپ کو اس قسم کا تکلف پسند نہیں تھا کہ پاس ہی غرباء تو بھوکے پھر رہے ہوں اور اُن کی آنکھوں کے سامنے لوگ بکرے بھون بھون کر کھا رہے ہوں۔ورنہ دوسری احادیث سے ثابت ہے کہ آپ بھونا ہوا گوشت بھی کھا لیا کرتے تھے۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحہ ۳۷۷) بَابِ ٢٤: هَدَايَا الْعُمَّال کارکنوں کو ہدیہ دینا ٧١٧٤: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۷۱۷۴: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِي أَنَّهُ سَمِعَ سفيان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے عُرْوَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ زہری سے روایت کی۔انہوں نے عروہ سے سنا قَالَ اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ حضرت ابوحمید ساعدی نے ہمیں بتایا۔وہ کہتے وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي أَسْدٍ يُقَالُ لَهُ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو کہ جسے ابن اُتنبیہ کہتے تھے صدقہ کا قَالَ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَقَامَ ابْنُ الْأُتِيَّةِ عَلَى صَدَقَةٍ فَلَمَّا قَدِمَ تحصیلدار مقرر کیا۔جب وہ آیا کہنے لگا: یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى منبر پر کھڑے ہو گئے۔سفیان نے بھی یوں کہا الْمِنْبَرِ، قَالَ سُفْيَانُ أَيْضًا فَصَعِدَ کہ آپ منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ پھر فرمایا: کارکنوں کو کیا ہو گیا ہے ہم انکو بھیجتے ہیں