صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 349
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۴۹ ۹۲ - كتاب الفتن حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔مسیح وہ ہوتا ہے جو خیر اور برکت کے ساتھ مسح کیا گیا ہو یعنی اس کی فطرت کو خیر و برکت دی گئی ہو۔یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی خیر وبرکت کو پیدا کر تا ہو اور یہ نام حضرت عیسی کو دیا گیا اور جس کو چاہتا ہے اللہ تعالیٰ یہ نام دیتا ہے۔اور اس کے مقابل پر ایک وہ بھی مسیح ہے جو شر اور لعنت کے ساتھ مسح کیا گیا یعنی اس کی فطرت شر اور لعنت پر پیدا کی گئی یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی شر اور لعنت اور ضلالت پیدا کرتا ہے اور یہ نام مسیح دجال کو دیا گیا اور نیز ہر ایک کو جو اس کا ہم طبع ہو اور یہ دونوں نام یعنی مسیح سیاحت کرنے والا اور مسیح برکت دیا گیا یہ باہم ضد نہیں ہیں اور پہلے معنی دوسرے کو باطل نہیں کر سکتے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی یہ بھی عادت ہے کہ ایک نام کسی کو عطا کرتا ہے اور کئی معنی اس سے مراد ہوتے ہیں اور سب اس پر صادق آتے ہیں۔“ (مسیح ہندوستان میں ، روحانی خزائن جلد ۱۵، صفحہ اے) باب ۲۷: لَا يَدْخُلُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ دجال مدینہ میں نہیں داخل ہو گا ۷۱۳۲: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۷۱۳۲: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ که عبيد الله بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے مجھے أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ خبر دی کہ حضرت ابوسعید نے کہا: ایک دن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَدِيثًا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دجال کے طَوِيلًا عَنِ الدَّجَّالِ فَكَانَ فِيمَا متعلق ایک لمبی بات بیان کی منجملہ اس کے جو يُحَدِّثُنَا بِهِ أَنَّهُ قَالَ يَأْتِي الدَّجَّالُ - آپ ہم سے بیان کیا کرتے تھے یہ بات بھی ہے وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ آپ نے فرمایا: دجال آئے گا اور اس پر حرام ہو الْمَدِينَةِ - فَيَنْزِلُ بَعْضَ السَّبَاخِ گا کہ مدینہ کے راستوں سے داخل ہو تو وہ ان