صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 343
صحيح البخاری جلد ۱۹ ۳۴۳ ۹۲ - كتاب الفتن ہو گویا کوئی جگہ اس سے خالی نہ رہی ہو۔اور مذہب وہ ایک نہایت ہی جھوٹے عقیدہ پر قائم ہو۔یہ تمام علامتیں مغربی ممالک کی مسیحی اقوام اور ان کے مذہبی راہنماؤں میں موجود ہیں۔۲: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے فتنہ سے بچنے کے لئے سورۃ کہف کی ابتدائی آیات پڑھنے کا ارشاد فرمایا اور سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات میں مسیحیت کا رد فرمایا گیا ہے۔چنانچہ فرمایا: وَيُنْذِرَ الَّذِيْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا (الكهف: ۵) یعنی اللہ تعالٰی نے یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے کہ اس کے ذریعہ ان کو ڈرایا جائے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے ایک بیٹا بنا لیا۔پس دجال کا فتنہ اور مسیح کو ابن اللہ بنانے کا فتنہ ایک ہی شے ہے کیونکہ علاج بیماری کے مطابق ہوتا ہے اگر دجالی فتنہ مسیحی فتنہ سے علیحدہ ہو تاتو ممکن نہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا حکیم انسان دجال سے بچنے کے لئے ایسی آیات پڑھنے کا حکم دیتا جن میں اس کا ذکر تک نہیں۔۔حدیث میں دجال کے فتنہ کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے۔(مسلم کتاب الفتن باب في بقية احاديث الدجال) قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے خطر ناک فتنہ مسیحیوں کا مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دینا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ آسمان پھٹ کر گر جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر زمین پر جا پڑیں۔ان دعوا للرّخين وَلَدًا ان (مریم : ۹۲) کہ ان لوگوں نے خدائے رحمان کا بیٹا قرار دیا ہے۔اور اس خطرناک فتنہ کے بانی مبانی عیسائی پادری ہی ہیں جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دیا۔۴۔سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دو فتنوں سے بچنے کی دعا سکھائی ہے۔(1) الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِہ کا فتنہ جس سے مراد یہود ہیں۔(ب) الضالین کا فتنہ جس سے مراد عیسائی ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کے ماننے والوں کے غلبہ کا ذکر فرمایا ہے۔چنانچہ فرمایا: وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ (آل عمران: ۵۶ ) (اے عیسی ) جو تیرے پیر وہیں انہیں ان لوگوں پر جو منکر ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا۔اس آیت کے مطابق غلبہ اور سلطنت قیامت تک یا عیسائیوں کے لئے مقدر ہے جو عیسی علیہ السلام کے رسمی متبع ہیں یا مسلمانوں کے لئے جو آپ کے حقیقی متبع ہیں۔مسلمانوں کو دجال قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ حدیث میں دجال کو کافر کہا گیا ہے لہذا حضرت عیسی کے رسمی متبع عیسائیوں کو ہی دجال قرار دیا جاسکتا ہے جن کے غلبہ کا اس آیت میں ذکر ہے۔۵۔مسلم کتاب الفتن باب قصة الجساسة میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت تمیم دارٹی نے دجال کو ایک مغربی جزیرہ کے گرجے میں مقید دیکھا اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دجال سے مراد مغربی عیسائی قومیں ہیں۔